?> منور حسن ایک نظریہ، روشنی اور جہد مسلسل کا نام ہے، تعزیتی ریفرنس - اسلام ٹائمز
0
Saturday 4 Jul 2020 10:53
منور حسن نے دہشتگردی کیخلاف جنگ کو امریکی جنگ قرار دیا تھا، سراج الحق

منور حسن ایک نظریہ، روشنی اور جہد مسلسل کا نام ہے، تعزیتی ریفرنس

منور حسن القدس اور فلسطین کی آزادی کیلئے آخری دم تک ڈٹے رہے،اسماعیل ہانیہ
منور حسن ایک نظریہ، روشنی اور جہد مسلسل کا نام ہے، تعزیتی ریفرنس
اسلام ٹائمز۔ سابق امیر جماعت اسلامی سید منورحسن کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی، سابق وزیر اعظم فلسطین اسماعیل ہانیہ، سیکرٹری جنرل عالمی مجلس اتحاد العلماء ڈاکٹر علی محی الدین قرداغی، رکن پارلیمنٹ یو کے افضل خان جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال، سجاد میر، افغانستان سے گلبدین حکمتیار، بزرگ حریت راہنما سید علی گیلانی، امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت حسینی، مولانا فضل الرحیم، پیر اعجاز ہاشمی، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم نے خطاب کیا۔ تعزیتی ریفرنس کیلئے قومی و بین الاقوامی شخصیات کے پیغامات بھی موصول ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ سید منور حسن ایک نظریہ، روشنی اور جہد مسلسل کا نام ہے، وہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، نظریاتی لوگوں کو موت فنا نہیں کر سکتی ایسے لوگوں کے سامنے موت خود فنا ہوجاتی ہے۔ سید منور حسن اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے پاکستان کی خاطر ہجرت کی اور ایک نظریے اور مقصد کی آبیاری کیلئے پوری زندگی گزار دی۔ سید منور حسن پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کیلئے زندگی بھر سرگرم رہے۔

تعزیتی ریفرنس کی صدارت امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کی۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر معراج الھدیٰ صدیقی، مولانا عبدالمالک، ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر، اظہر اقبال حسن، عبدالرﺅف ملک اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے۔ سراج الحق نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ سید منورحسن محض ایک جسد خاکی نہیں اللہ سے محبت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کا ایک مکمل نمونہ تھے۔ وہ موت کے آئینے میں رخ دوست دکھانے والے قائد تھے۔ انہوں نے جوانی سے اپنی زندگی کے آخری دن تک اللہ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد اولین بنائے رکھا اور ساٹھ سال تک باطل قوتوں کیساتھ پوری استقامت کیساتھ نبرد آزما رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران آج کہتے ہیں کہ امریکی جنگ ہماری جنگ نہیں تھی جبکہ سید منور حسن نے یہ جنگ شروع ہونے سے بھی پہلے سب کو خبردار کر دیا تھا کہ یہ امریکی جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک میں ظلم و جبر ہے، مہنگائی اور بے روزگاری ہے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی غلامی ہے، شیطانی سیاست، جاگیردارانہ ظالمانہ نظام مسلط ہے، اس نظام میں کرپٹ سرمایہ داروں اور ظالم جاگیرداروں نے عوام کا خون چوس لیا ہے، اس نظام کو چیلنج کرنا ہمیں ہماری قیادت سید مودودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد اور سید منور حسن نے سکھایا ہے۔ صدر مملکت عارف علوی نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کے اتحاد اور اسلامی حکومت کے قیام کیلئے سید منور حسن کا وژن بڑا واضح تھا۔ سید منور حسن سے میرے ذاتی اور خاندانی تعلقات تھے اور ہم نے بچپن اور جوانی اکٹھے گزاری ۔سید منورحسن جس بات کو حق سمجھتے تھے اس پر ڈٹ جاتے تھے اور بڑی بے باکی سے اس کی ترجمانی کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں دینی اور سیاسی معاملات میں اکثر سید منورحسن سے راہنمائی لیتا تھا ۔انہوں نے کہا کہ دینی لٹریچر خاص طور پر سید مودودی کی کتابیں میں اپنی والدہ سے لیکر پڑھیں۔ مجھے اسلامی لٹریچر سے خاص لگاﺅ تھا اور اس کے اصل محرک میرے والدین اور میرے دوست سید منور حسن تھے۔

مولانا فضل الرحمن نے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ مجلس عمل ہمارا قریبی تعلق رہا، سید منور حسن کے اندر بے شمار قائدانہ خوبیاں تھیں وہ جو بات کرتے پوری دلیل کے ساتھ کرتے ۔ان کی گفتگو بڑی مدبرانہ، مدلل اور موثر ہوتی تھی۔ سید منور حسن کی وفات سے پاکستان ایک مخلص اور مدبر راہنما سے محروم ہوگیا ہے۔ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ سید منور حسن عمر بھر پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی و فلاحی مملکت بنانے کیلئے اس کی خواب کی تعبیر حاصل کرنے کیلئے کوشاں رہے جو تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے وقت ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے کہا کہ سید منور حسن ہمارے مربی و مرشد تھے۔ انہوں نے ہمیں حق بات کہنا اور پھر اس پر پوری استقامت سے ڈٹ جانا سکھایا۔ سید منور حسن ظالم و جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے والے مرد مجاد تھے۔ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنا ہم اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔

فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور حماس کے راہنما اسماعیل ہانیہ نے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید منور حسن القدس اور فلسطین کی آزادی کیلئے آخری دم تک ڈٹے رہے۔ سید منورحسن کی رحلت صرف پاکستانی قوم کیلئے دکھ اور صدمہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام اور امت مسلمہ کا مشترکہ دکھ اور صدمہ ہے۔ سید منور حسن کی وفات سے ہم اپنے ایک قائد اور مربی سے محروم ہوگئے ہیں۔ ان کی وفات سے عالم اسلام بہت بڑے نقصان سے دوچار ہوگیا ہے۔ سینئر تجزیہ کار سجاد میر نے کہا کہ سید منور حسن نے پورے اخلاص کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کی۔ سید منور حسن کی فکری تربیت پروفیسر خورشید احمد اور سیاسی تربیت پروفیسر غفور احمد نے کی اور پروفیسر غفور احمد کے سیاست میں جونیئر پارٹنر تھے۔ سید منور حسن نے ہمیشہ درست بات صحیح وقت پر کی۔ ان کی زندگی درویشی، فقیری اور پارسائی کا مرقع تھی۔
خبر کا کوڈ : 872361
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش