0
Saturday 4 Jul 2020 17:46

کراچی میں دہشتگردی، قتل و غارتگری کیلئے مرضی کے پولیس افسران لگوائے، عزیر بلوچ کا انکشاف

کراچی میں دہشتگردی، قتل و غارتگری کیلئے مرضی کے پولیس افسران لگوائے، عزیر بلوچ کا انکشاف
اسلام ٹائمز۔ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ اور جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کے سامنے 29 اپریل 2016ء کو ریکارڈ کیے گئے بیان میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے۔ تفصیلات کے مطابق عزیر بلوچ نے کہا کہ لیاری میں امن کمیٹی کے نام پر تنظیم قائم کی، گینگ وار کیلئے اسلحہ کوئٹہ اور پشین سے لایا جاتا تھا، پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل کے کہنے پر قتل کیے اور سرکاری زمینوں پر قبضے میں ان کی مدد کی، بلاول ہاؤس کے اطراف میں لوگوں کو تنگ کیا، جس پر وہ سستے میں اپنے گھر بیچ کر چلے گئے۔ عزیر بلوچ نے بتایا کہ کراچی میں قتل و غارتگری، بھتہ خوری اور دہشتگردی کیلئے مرضی کے پولیس اہلکار اور افسران لگوائے، 500 جرائم پیشہ افراد کو سرکاری ملازمتیں دلوائیں، میرے کہنے پر ڈاکٹر سعید بلوچ اور نثار مورائی کو فشریز میں لگوایا گیا، جہاں سے ماہانہ ایک کروڑ روپے بھتہ فریال تالپور اور 20 لاکھ روپے مجھے بھتہ ملتا تھا۔

عزیر بلوچ نے اعترافی بیان میں کہا کہ سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، فریال تالپور اور آصف زرداری کے کہنے پر میری ہیڈ منی (سر کی قیمت) ختم کر دی گئی، 2013ء کے الیکشن میں فریال تالپور سے رابطے میں تھا، میرے کہنے پر شاہ جہاں بلوچ، جاوید ناگوری، عبداللہ بلوچ اور ثانیہ ناز کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا، 2013ء میں کراچی آپریشن میں تیزی کے پیش نظر فریال تالپور نے ایم این اے قادر پٹیل کے ذریعے اپنے گھر بلایا، شرجیل میمن پہلے سے فریال تالپور کے گھر موجود تھے۔ عزیر بلوچ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اہم انکشافات کے بعد آصف زرداری، فریال تالپور، قادر پٹیل اور دیگر سے مجھے اور میری فیملی کو خطرہ ہے، خدشہ ہے جن افراد کے قتل و غارت گری، زمینوں پر قبضے اور بھتہ خوری میں ملوث ہونے میں جن کے نام ظاہر کیے، وہ قتل کرا دیں گے۔
خبر کا کوڈ : 872488
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش