?> برطانیہ کشمیر کے مسئلے پر سفارتی فرار سے گریز کرے، مسعود خان - اسلام ٹائمز
0
Sunday 5 Jul 2020 10:52

برطانیہ کشمیر کے مسئلے پر سفارتی فرار سے گریز کرے، مسعود خان

برطانیہ کشمیر کے مسئلے پر سفارتی فرار سے گریز کرے، مسعود خان
اسلام ٹائمز۔ آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ حقیقت سے سفارتی فرار اختیار کرنے اور کشمیر کو 2 طرفہ مسئلہ قرار دینے سے گریز کرے۔ تحریک کشمیر برطانیہ کی جانب سے "کشمیر میں دہرا لاک ڈاؤن اور عالمی ردِعمل" کے نام سے منعقدہ ایک آن لائن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ کے قانون سازوں اور سول سوسائٹی سے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی صورتحال پر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ، سیکریٹری خارجہ سیکریٹری دولت مشترکہ سے بات کریں۔ ذرائع کے مطابق اس سیمینار میں دانشوروں اور اسکاٹش نیشنل پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس، لیبر اور کنزرویٹو پارٹی کے اہم اراکین پارلیمان نے بھی شرکت کی۔ صدر آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، قتال، تشدد، ریپ اور دوہرے لاک ڈاؤن کے تحت قید کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیے جس نے کشمیریوں کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔

بیان کے مطابق لیبر پارٹی کے رکن پارلیمان لیام بیرن نے کہا کہ برطانیہ کو یہ بہانہ چھوڑنا پڑے گا اس مسئلے کو 2 طرفہ طور پر حل کیا جائے، کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قردادوں کے مطابق حل کے لیے غیرجانبدار ثالثی ہونی چاہیے۔ انہوں نے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتشار پسندی کی مذمت کی اور اسے بھارت کے سیکیولر تشخص کی تنزلی قرار دیا۔ لیبر پارٹی کی رکن پارلیمان نادیہ وٹوم نے مقبوضہ کشمیر سے فوجوں کے انخلا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل اے-35 اور 370 کو فوری طور پر بحال کیا جانا چاہیے۔

صدر آزادکشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی اور وہاں انسانیت اور انسانی حقوق کا بحران ہے۔ حال ہی میں 65 سالہ کشمیری شہری بشیر احمد خان کی شہادت اور ان کی لاش پر بیٹھے نواسے کی وائرل ہونے والی تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے مسعود خان نے کہا کہ یہ سفاک بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم کی ہولناک یاد دہانی ہے۔ صدر آزادکشمیر نے مزید کہا کہ رواں برس اپریل میں بھارت ایک قدم آگے بڑھا اور نیا ڈومیسائل قانون متعارف کروایا جس کے تحت بھارت نے کشمیریوں سے روزگار، جائیداد، ملازمت اور تعلیمی اسکالر شپ کا حق بھی چھین لیا۔ بی جے پی حکومت کے تحت مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی تقسیم اور امتیاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں گزشتہ صدی میں ہٹلر کی نازی پارٹی کے اقدامات جیسی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 11 ماہ کے دوران سینکڑوں کشمیریوں کو قتل کیا جا چکا ہے اور ہزاروں کشمیری نوجوان جیل میں ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کی پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ 2 ماہ میں 22 عسکریت پسند مارے گئے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی اور جنگی جرائم کر رہا ہے۔ مسعود خان نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے تسلی آمیز بیان سے بھارت پر کوئی فرق نہیں پڑا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنا طرز عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے لیے لازم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال پر نظر رکھے۔
خبر کا کوڈ : 872589
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش