0
Monday 6 Jul 2020 06:01

راولپنڈی، سجادہ نشین پیر محمد نقیب الرحمن کی زیر صدارت اتحاد امت کانفرنس کا انعقاد

راولپنڈی، سجادہ نشین پیر محمد نقیب الرحمن کی زیر صدارت اتحاد امت کانفرنس کا انعقاد
اسلام ٹائمز۔ دربار عالیہ عیدگاہ شریف راولپنڈی میں سجادہ نشین پیر محمد نقیب الرحمن کی زیر صدارت اتحاد امت کانفرنس منعقد ہوئی۔ پیر محمد حسان حسیب الرحمن کی میزبانی میں منعقد ہونیوالی کانفرنس میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس میں خانقاہوں کے سجادہ نشین اور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے بھی شرکت کی۔ شرکاء میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکڑ قبلہ ایاز، پیر سید حامد سعید کاظمی، پیر امین الحسنات شاہ، پیر سید سعادت علی شاہ، سجادہ نشین آستانہ عالیہ مانکی شریف پیر شمس الامین، اتحاد علماء پاکستان کے چیئرمین طاہر اشرفی، سینیٹر طلحہ محمود، پیر عبید اللہ شاہ، پیر سید منور شاہ جماعتی، پیر سید شمس الدین گیلانی، خواجہ غلام قطب الدین فریدی، مولانا عبدالخبیر آزاد، پیر سلطان احمد علی، علامہ امین شہیدی، علامہ عارف واحدی اور علامہ محمد حسین اکبر شامل تھے۔

کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔ پیر محمد حسان حسیب الرحمن نے اعلامیے کے متفقہ نکات بیان کیے کہ:
1۔ جن شخصیات کے ساتھ کروڑوں لوگوں کی عقیدتیں وابستہ ہوں، وہ اہل بیت اطہارؑ ہوں یا اصحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہوں، ان کا ذکرِ خیر نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ کیا جائے اور کوئی کمزور بات ان سے منسوب نہ کی جائے۔
2۔ دین کی مشترکہ تعلیمات کو عام کرکے اخوت و رواداری کو فروغ دیا جائے اور تفرقات کو ختم کیا جائے۔
3۔ خفیہ طور پر فرقہ واریت پھیلانے اور کسی بھی انداز میں اس کی معاونت کرنے والے عوامل کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
4۔ متنازعہ اور تنقیدی اسلوب تبلیغ کی بجائے مثبت اور غیر تنقیدی اسلوب تبلیغ اختیار کیا جائے۔

5۔ ہنگامی تنازعات کے حل کے لیے سرکاری سطح پر مستقل مصالحتی کمیشن قائم کیا جائے، جو غیر جانب دارانہ طور پر معاملات کو حل کرے اور کسی بھی مسلک کے اشخاص کو قانون ہاتھ میں لینے کی قطعی طور پر اجازت نہ ہو اور اگر کوئی شخص قانون ہاتھ میں لیتا ہے یا کوئی ایسی بات کرتا ہے جو مذہب، اخلاقیات اور ریاست کے خلاف ہے تو اس بات کو پورے مسلک کی طرف سے نہیں بلکہ اس شخص کا ذاتی و انفرادی عمل تصور کیا جائے اور اس کے جرم کی مناسبت سے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔
6۔ حقیقی رواداری کا عملی مظاہرہ کیا جائے، قرآنی فلسفے کو اپنی زندگیوں میں لاگو کیا جائے۔
7۔ ہم سب فرقہ وارانہ منافرت، انتہا پسندی اور دشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، یہ جو پیغام اتحاد امت کانفرس میں متفقہ اعلامیہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اسے بل کی صورت میں قومی اسمبلی سے منظور کیا اور آئین کا حصہ بنایا جائے، یہاں اکٹھے ہونے کا مقصد نفرتوں کا خاتمہ اور محبتوں کو عام کرنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 872702
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش