0
Tuesday 7 Jul 2020 15:17

پنجاب حکومت کا فرقہ واریت میں ملوث عناصر کو سختی سے کچلنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا فرقہ واریت میں ملوث عناصر کو سختی سے کچلنے کا فیصلہ
اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ لاہور میں خصوصی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے صوبے میں امن عامہ سے متعلقہ اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فرقہ واریت میں ملوث عناصر کی سرگرمیوں کو سختی سے کچلا جائے گا، جبکہ پنجاب کے داخلی و خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کی جانب سے چندہ یا فنڈز جمع کرنے کی پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا اور قانون شکن عناصر کیخلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔

عثمان بزدار نے ہدایت کی کہ جرائم پیشہ عناصر کیخلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت کارروائی کی جائے، پنجاب میں این جی اوز کا آڈٹ مکمل ہو چکا ہے اور پنجاب چیریٹی کمیشن بھی تشکیل دے دیا گیا ہے اور این جی اوز کی آن لائن رجسٹریشن کیلئے پورٹل ڈویلپ کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ محکمہ داخلہ میں سٹرٹیجک بورڈ فعال بنایا جائے گا، وفاقی اور صوبائی متعلقہ اداروں میں کوآرڈینیشن کو مزید موثر بنایا جائے گا جبکہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والے عناصر کی سرکوبی کیلئے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔ عثمان بزدار نے ہدایت کی کہ پنجاب میں فرقہ واریت میں ملوث عناصر کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے امن عامہ کیلئے موثر اقدامات پر محکمہ پولیس، محکمہ داخلہ، سی ٹی ڈی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی تعریف کی۔

وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ پنجاب میں فروری 2017 سے اب تک فرقہ واریت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک، انسپکٹر جنرل پولیس شعیب دستگیر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن آغا اور اعلیٰ حکام  نے بھی شرکت کی۔
خبر کا کوڈ : 873016
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش