0
Thursday 16 Jul 2020 13:26

وادی کشمیر میں تعمیر و ترقی کے دعوے بے بنیاد، بیشتر سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل

وادی کشمیر میں تعمیر و ترقی کے دعوے بے بنیاد، بیشتر سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل
اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر میں تعمیر و ترقی کے دعوؤں کی پول یہاں کے 10 اضلاع کی سڑکیں کھول رہی ہیں، کیونکہ جہاں متعدد سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں، تو وہیں کہیں سڑکوں تعمیر و تجدید کا کام برسوں سے ٹھپ پڑا ہے۔ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں آج کے اس جدید دور میں بھی لوگ کندھوں پر  اشیائے ضروریہ  اُٹھاکر اپنے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔ اس بیچ محکمہ تعمیرات عامہ کا دعویٰ ہے کہ رواں برس وادی کشمیر بھر میں 1200 کلو میٹر سڑکوں پر تارکول بچھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور وادی بھر میں کووِڈ 19کے بیچ دوبارہ سے تعمیراتی سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں۔ معلوم رہے کہ وادی بھر میں کووِڈ 19 کی وجہ سے 300 سے 350 تعمیراتی منصوبوں پر کام ٹھپ ہو کر رہ گئے تھے، اگرچہ اب محکمہ آر اینڈ بی نے شہر سمیت وادی کے متعدد علاقوں میں کچھ ایک سڑکوں پر تارکول بچھانے کا کام شروع کر دیا ہے، البتہ بیشتر اہم اور رابطہ سڑکیں ابھی بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

شہر کی بیشتر سڑکوں پر عرصہ دراز سے مرمت کا کام ہی شروع نہیں ہو سکا ہے۔ محکمہ کا اب شہر کی متعدد سڑکوں کو اس بار تارکول بچھانے کا منصوبہ ہے لیکن اکثر سڑکیں ایسی ہیںجن پر ٹرانسپوٹر بھی اب گاڑیاں چلانے سے کتراتے ہیں، ایسا ہی حال دیگر اضلاع کا بھی ہے۔ ضلع اننت ناگ میں بیشتر سڑک پروجیکٹوں کی تعمیر بھی ٹھپ پڑی ہے جس کی وجہ سے یہ سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ ضلع میں 2016ء سے 2019ء تک سی آر ایف پروجیکٹ کے تحت 13 سڑکوں کی مرمت اور 5 پلوں کی تعمیر کے لئے مرکز نے فنڈس مختص رکھے لیکن یہ کام ٹھپ پڑا ہے جس کی وجہ سے لارکی پورہ سے زلڈورہ، ویری ناگ سے کپرن، کھنہ بل سے پہلگام، سیر مقام سے عشمقام، پہلگام سے آڑو ویلی، سنگم سے سری گفوارہ، کھنہ بل سے مہندی کدل بائی پاس، مٹن سے اوکورہ، مٹن سے اچھ بل، براکہ پورہ سے چھتر گل سڑکیں انتہائی خستہ ہیں اور ان کی جانب کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 874766
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش