0
Thursday 16 Jul 2020 11:44

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم کے معاونین خصوصی کو یکطرفہ کارروائی کیلئے خبردار کر دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم کے معاونین خصوصی کو یکطرفہ کارروائی کیلئے خبردار کر دیا
اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم کے معاونین خصوصی کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے آئندہ ہفتے تک اپنی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست پر جواب جمع نہیں کرایا تو ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق جب جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے درخواست پر سماعت شروع کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل راجا خالد محمود خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اب تک کچھ معاون خصوصی نے جواب جمع نہیں کروایا۔ عدالت نے 3 مختلف سماعتوں کے دوران تمام فریقین کو نوٹس جاری ہونے کے باوجود جواب نہ آنے پر برہمی کا اظہار کیا، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک مرتبہ پھر نوٹسز جاری کیے جائیں۔ تاہم جسٹس عامر فاروق نے خبردار کیا کہ اگر فریقین آئندہ ہفتے تک جواب جمع نہیں کراتے تو عدالت ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرے گی۔

خیال رہے کہ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وزیراعظم کے زلفی بخاری، شہزاد اکبر، ندیم افضل چن، ظفر مرزا، علی نواز اعوان، ڈاکٹر معید اور عثمان ڈار سمیت 15 معاونین خصوصی کی تعیناتی غیرآئینی قرار دی جائے۔ درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ کیس کی پیروی کے دوران ہی نعیم الحق کا انتقال ہو گیا جبکہ فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ یوسف بیگ مرزا، شمشاد اختر اور افتخار درانی نے بطور معاون خصوصی استعفیٰ دے دیا۔ مذکورہ درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ وہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کے سیکشن 9 کے قواعد کے تحت معاونین خصوصیوں کے کردار کی تحقیق کی ہدایت دے۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اپریل کے مہینے میں وفاقی حکومت میں وفاقی یا وزیر مملکت کی حیثیت کے ساتھ مشیروں اور معاونین خصوصی کی ایک بڑی تعداد کے تقرر کے وفاقی حکومت کے اختیار پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان تعیناتیوں کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے اراکین کی جانب سے پیش کردہ مشترکہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈیڑھ درجن سے زائد تعداد میں معاونین خصوصی اور مشیر آئین کے مطابق نہ تو پارلیمنٹ کے منتخب رکن ہیں اور نہ ہی کابینہ کا حصہ ہیں اس کے باوجود وہ ایگزیکٹو اتھارٹی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وزیراعظم کے خصوصی معاونین اور مشیر جو وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کی حیثیت رکھتے ہیں وہ تنخواہوں، الاؤنسز، مراعات سمیت کسی بھی مالی فائدے کے حقدار نہیں ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ چونکہ وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت اعتماد پر کام کرتے ہیں لہٰذا وہ پاکستان کے دوسرے شہریوں کی طرح قانون کی پابندی کرنے کے پابند ہیں۔
خبر کا کوڈ : 874772
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش