0
Thursday 16 Jul 2020 15:26

مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا جائے، سراج الحق

مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا جائے، سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے نیشنل ایکشن پلان بنانے کا مطالبہ کردیا، صدر سے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہون نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تیل پانی کی طرح بہہ رہا ہے جبکہ پاکستان میں اس کی قیمتیں بڑھتی جارہی ہیں، بلوچستان رو رہا ہے، جنوبی پنجاب کی پسماندگی برقرار ہے، قبائلی اضلاع کے حالات خراب ہورہے ہیں، اندرون سندھ مسائل بڑھ رہے ہیں، کراچی میں پانی ہے نہ ٹرانسپورٹ، پہلی حکومت دیکھی ہے جس کے وزراء بجلی کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے احتجاج اور دھرنوں میں بیٹھے ہیں، حکمران احتجاج کریں گے تو عوام مسائل کے حل کیلئے کہاں جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ نون اور اب تحریک انصاف کے ادوار میں دیکھا اور سنا ہے کہ صدر جو تقریر کرتا ہے لگتا ہے ایک ہی آدمی نے ان سارے صدور کی تقریر لکھی تھی، مسائل بڑھتے گئے، قومی ایشوز کو زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ ہر صدر نے حکومت کی تعریف ان کے اقدامات کو تحفظ فراہم کیا جبکہ صدر کو حکومتی وعدوں پر بات کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ حکومت تبدیلی کا نام لے کر عوام سے مینڈیٹ لیا، وعدوں کا تجزیہ پیش کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ صدر کے خطاب سے مسائل اور مایوسی میں مزید اضافہ ہوا ہے، کشمیر جوکہ پاکستان کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اسی دور حکومت میں کشمیر نامی ریاست کا نام نقشہ پر ختم ہوکر رہ گیا، کب تک مقبوضہ کشمیر میں خون بہے گا، حکومت نے کشمیر کی حیثیت کی بحالی کیلئے کیا کیا، اس حکومت سے اتنا نہیں ہوسکا کہ ساری سیاسی قیادت کو اکٹھا کرلیتی۔ مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری کے نام پر عالمی ایجنسیوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو زمینیں دی جارہی ہیں، بھارت کے برہمنوں کو بسایا جارہا ہے۔ دو ماہ قبل اشرف صحرائی کو گرفتار کیا گیا، اس کے شہید بیٹے کی میت باپ کے سپرد کرنے کی پیش کش کی گئی تو اس نے انکار کردیا کہ مقبوضہ کشمیر کے تمام شہید بیٹوں کی میتیں کیا ان کے خاندانوں کے حوالے کی جاتی ہیں، میں کشمیر کی ماﺅں بہنوں، بیٹیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو اپنے پیاروں کی اس طرح کی شہادتیں پیش کر رہی ہیں۔ ان ماﺅں کی یہ قربانیاں ہمارے آنے والی نسلوں کے تحفظ کیلئے ہیں، مگر ہم کیا کر رہے ہیں، میں صدر اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کشمیر کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کی جائے، کشمیر تو گم ہوکر رہ گیا ہے، 22 ماہ میں سیاسی مشاورت کی بھی توفیق نہیں ملی۔ کشمیر کے حالات انتہائی خطرناک ہیں، دنیا کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جو تقریروں، کالی پٹی باندھنے اور نعروں سے آزاد ہوا ہو۔

سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا قومی ایکشن پلان مرتب کیا جائے۔ ریاستی ادارے سیاسی جماعتیں اور پوری قوم یکجا ہو، کہیں کشمیر کے لوگ مایوس نہ ہو جائیں۔ پاکستان کے ہر گھر میں غربت ناچ رہی ہے، دنیا بھر میں پٹرول ڈیزل کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں جبکہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا جارہا ہے۔ صدر پاکستان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ کراچی میں ہزاروں لوگوں کو فٹ پاتھ پر بغیر چادر کے سوئے دیکھا اور سامنے ایئر کنڈیشنروں والی عمارتیں بھی دیکھیں۔ ایک کروڑ 70 لاکھ لوگوں کے بیروزگار ہونے کا اعتراف حکومت کرچکی ہے، پہلے ہی 7 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں حکومتی وعدوں کا کیا ہوا۔ بے گھروں کو گھر مل گئے، انصاف کہاں ہے، 22 ماہ میں پاکستان میں کسی غریب کو کوئی سہولت نہیں ملی۔ صدر نے اداروں کے استحکام کی بات نہیں کی، ایک ایک کرکے ادارے تباہ کیے جارہے ہیں بلکہ پی آئی اے کی تباہی کا سامان تو اس حکومت نے خود کیا اور سلطانی گواہ بن گئی، بحرین جیسے ملک نے پاکستانی پائلٹس پر جہاز چلانے پر پابندی لگا دی ہے۔ 72 سالوں میں اس سے زیادہ شرمندگی کے لمحات نہیں دیکھے۔ اسٹیل ملز کو تباہ کردیا گیا۔ 9 ہزار لوگوں کو نکالا جارہا ہے، کراچی میں نہ ٹرانسپورٹ ہے نہ پانی ہے، قبائلی اضلاع اور اندرون سندھ کے حالات مزید خراب ہیں اور وہاں مسلسل ایک پارٹی کی حکومت چلی آرہی ہے مگر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تعلیمی ادارے چار ماہ سے بند پڑے ہیں۔ 
خبر کا کوڈ : 874823
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش