1
Friday 24 Jul 2020 23:41
صنعاء میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا

ہزاروں بچے موت کے منہ میں ہیں؛ اقوام متحدہ یمنی عوام کی پکار سنے، یمن

ہزاروں بچے موت کے منہ میں ہیں؛ اقوام متحدہ یمنی عوام کی پکار سنے، یمن
اسلام ٹائمز۔ یمن میں ایندھن کی شدید قلت کے باوجود جارح سعودی فوجی اتحاد کی جانب سے ڈیزل اور خوراک کے حامل یمنی بحری بیڑوں کے ضبط کر لئے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یمنی تیل کی سرکاری کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر عمار الاضرعی نے کہا ہے کہ یمن ایندھن کے اعتبار سے انتہائی سخت دن دیکھنے والا ہے۔ عمار الاضرعی نے عرب نیوز چینل المیادین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا جارح سعودی فوجی اتحاد نے تیل و خوراک کے حامل یمنی بحری بیڑوں کو ضبط کر رکھا ہے جبکہ ایک ہزار سے زائد یمنی بچے ہسپتالوں کے اندر ایندھن کی قلت کے باعث موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ یمنی تیل کی سرکاری کمپنی کی جانب سے نماز جمعہ کے بعد دارالحکومت صنعاء میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا بھی دیا گیا۔

یمنی وزیر پٹرولیم احمد دارس نے اس موقع پر احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے اندر ڈیزل کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے جس کے باعث عنقریب ہی یمنی عوام کی زندگی مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف عالمی جارح قوتوں کی جانب سے ہونے والے جرائم کے مقابلے میں کوئی ہماری مدد کو نہیں آ رہا حتی اقوام متحدہ بھی ہماری پکار سننے کو تیار نہیں۔ یمنی وزیر پٹرولیم نے صنعاء میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم گدائی کے لئے ہاتھ نہیں پھیلا رہے بلکہ اقوام متحدہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ 2 کروڑ 60 لاکھ یمنی عوام کے حوالے سے اپنے انسانی وظیفے پر عملدرآمد کرے۔ دوسری طرف احتجاجی دھرنے کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں یمنی مرکزی کمان اور مسلح افواج سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سعودی قبضے کے اندر موجود یمنی تیل سے بھرے بحری بیڑوں کی آزادی کے لئے فوجی آپشنز استعمال کرے تاکہ یمنی عوام کی ایک بڑی تعداد کو موت کے منہ سے نکالا جا سکے۔
خبر کا کوڈ : 876332
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش