1
Wednesday 29 Jul 2020 21:28
حج بیت اللہ کے حوالے سے امت مسلمہ کے نام رہبر معظم کا اہم پیغام

حج، امت مسلمہ کو خون آلود کرنیوالے مستکبرین کے مقابلے میں طاقت کے اظہار کی تمرین ہے، آیت اللہ خامنہ ای

آج مغرب کا نہ صرف ثقافتی، بلکہ سیاسی و اقتصادی ماڈل بھی اپنی نا اہلی و بدعنوانی ثابت کر چکا ہے
حج، امت مسلمہ کو خون آلود کرنیوالے مستکبرین کے مقابلے میں طاقت کے اظہار کی تمرین ہے، آیت اللہ خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایام حج کے حوالے سے امتِ مسلمہ کے نام ایک اہم پیغام ارسال کیا ہے۔ ذیل میں رہبر معظم کے پیغام کا مکمل متن تحریر کیا جاتا ہے:

بسم‌الله‌الرحمن‌الرحیم

و الحمدلله رب العالمین و صلی الله علی محمد و آله الطاهرین و صحبه المنتجبین و من تَبِعَهُم باِحسانٍ الی یوم الدین

حج جو عالم اسلام کے لئے ہمیشہ سے ہی احساس عزت و عظمت اور پھلنے پھولنے کا موسم ہے، آج غم و اندوہ اور مومنین کی حسرت سے معمور ہو کر مشتاقان زیارت کے احساس فراق میں مبتلا ہو چکا ہے۔ دل، کعبہ کی تنہائی سے احساس تنہائی کا شکار جبکہ حج سے رِہ جانے والوں کی "لبیک" آہ و زاری کے ساتھ مل چکی ہے۔

یہ محرومیت عارضی ہے اور اللہ کے حکم سے زیادہ دیر باقی نہیں رہے گی تاہم "حج جیسی عظیم نعمت کی قدر جاننے" کا درس نہ صرف ہمیشہ کے لئے باقی رہنا چاہئے بلکہ اس کے ذریعے ہمیں خوابِ غفلت سے بھی جاگ جانا چاہئے۔ امسال ہمیں اس بات کو پہلے سے زیادہ محسوس کر کے اس پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ امتِ مسلمہ کی عظمت اور طاقت کا راز "اللہ اور اللہ  کے رسول (ص) کے حرمہائے مبارک کے اندر مومنین کا عظیم و متنوع اجتماع" ہے۔

حج تمام اسلامی فرائض کے اندر ایک منفرد حیثیت کا حامل بیمثال فریضہ ہے جس کے اندر دین کے اعتبار سے انسانی زندگی کے انفرادی و اجتماعی، زمینی و آسمانی (مادی و روحانی) اور تاریخی و آفاقی سمیت تمام پہلووں پر تمرین کی جاتی ہے۔

اس (حج) میں روحانیت موجود ہے لیکن تنہائی، گوشہ نشینی اور خلوت کے بغیر اور اجتماع بھی موجود ہے لیکن لڑائی جھگڑے، بدگوئی اور بدنیتی کے بغیر۔ اس عبادت میں ایک طرف مناجات، دعاؤں اور ذکر الہی کی روحانی لذت جبکہ دوسری طرف اُنس کا رشتہ اور لوگوں کے آپسی تعلقات موجود ہیں۔

حاجی (کعبۃ اللہ میں داخلے کے وقت) خود کو ایک نگاہ میں حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسمعیلؑ، جناب
ہاجرہؑ اور بیت اللہ الحرام کے اندر فاتحانہ داخلے کے موقع پر حضرت رسول خدا (ص) اور آپؐ کے ساتھ موجود مومنین کی جماعت کے ہمراہ دیکھتا ہے جبکہ دوسری نگاہ میں آج کے مومنین کو پاتا ہے جن میں سے ہر ایک؛ مسلمانوں کے باہمی تعاون اور "حبل اللہ" کے ساتھ ان کے تمسک میں انتہائی ممِد و معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

"حج" میں تدبر اور تفکر، حاجی کو اس قطعی یقین پر پہنچا دیتا ہے کہ انسانیت کے حوالے سے "دین کی بہت سی آرزوئیں"؛ دینداروں کی آپسی ہم آہنگی، اتحاد اور تعاون کے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں جبکہ مسلمانوں کے درمیان آپسی ہم آہنگی، اتحاد اور تعاون کے پیدا ہو جانے کے بعد، دشمن کی سازشیں بھی (دینی آرزوؤں کی تکمیل کے) اس رستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔

حج، ان مستکبرین کے مقابلے میں طاقت کے اظہار کی تمرین ہے جو بدعنوانی، ظلم اور ضعیف کُشی و غارتگری کا اصلی مرکز ہیں جبکہ ان کی ستمگری اور خباثت کے باعث آج امتِ مسلمہ کی جسم و جان آزردہ خاطر اور خون آلود ہو چکی ہے۔ حج، امت کی سخت و نرم توانائیوں کی نمائش کا نام ہے۔

یہ ہے حج کی طبیعت، اس کی روح اور اس کے مختلف اہم اہداف! یہ وہی چیز ہے جس کا نام امام خمینیؒ نے "حج ابراہیمیؑ" رکھا تھا۔ یہ وہی چیز ہے کہ حج کے متولی جو، خود کو خادم حرمین بھی کہلواتے ہیں، اگر اس پر سچے طریقے سے عمل کریں اور امریکی خوشنودی کے بجائے رضائے الہی کو اختیار کر لیں تو عالم اسلام کی بڑی بڑی مشکلات کو حل کر سکتے ہیں۔

آج بھی ہمیشہ کے مانند، بلکہ ہمیشہ سے بھی بڑھ کر، امتِ مسلمہ کی اشد ضروری مصلحت ایسا "اتحاد" ہے جس کے ذریعے امت مسلمہ تمام خطرات اور دشمنیوں کے مقابلے میں واحد ہاتھ کی شکل میں آجائے اور شیطانِ مجسّم، جارح اور غدّار "امریکہ" و اس کی زنجیر کے کتے "غاصب صیہونی رژیم" (اسرائیل) کے خلاف کڑکتی بجلی بن کر ان کی زور زبردستیوں کے سامنے بہادری کے ساتھ سینہ سپر ہو
جائے۔

فرمانِ الہی کا معنی بھی یہی ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا.. (اور مل کر تھام لو اللہ کی رسی کو اور اختلاف نہ کرو) ( سوره‌ آل‌عمران، آیه‌ ۱۰۳)

قرآن "حکیم" ہے جو امتِ اسلامی کا تعارف ان الفاظ میں کرواتا ہے: "أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَهُمْ" (وہ کفار پر سخت گیر اور آپس میں مہربان ہیں) (سوره‌ فتح، آیه‌ ۲۹)۔ قرآن حکیم امتِ مسلمہ سے وظیفہ طلب کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَلَا تَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا (اور جنہوں نے ظلم کیا ہے ان پر تکیہ نہ کرنا) (سوره‌ هود، آیه‌ ۱۱۳وَلَن یَجْعَلَ اللَّهُ لِلْکَافِرِینَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ سَبِیلًا (اور اللہ ہرگز کافروں کو مومنوں پر غالب نہیں آنے دے گا) (سوره‌ نساء، ۱۴۱)،  فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْکُفْرِ (کفر کے اماموں سے جنگ کرو) (سوره‌ توبه، آیه‌ ۱۲)، لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاءَ (تم میرے اور اپنے دشمنوں کو سرپرست نہ بناؤ) (سوره‌ ممتحنه، آیه ۱) اور پھر دشمن کو مشخص کرنے کے لئے یہ حکم صادر فرماتا ہے: لا یَنْهَاکُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّینِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ.. (جن لوگوں نے دین کے بارے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اللہ تمہیں ان کے ساتھ احسان کرنے اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا) (سوره‌ ممتحنه، آیه ۸)

یہ اہم اور تقدیر بدل دینے والے احکام، ہم مسلمانوں کی فکر و اقدار کے نظام سے کبھی خارج نہیں ہونا چاہئیں اور نہ ہی کبھی فراموش کا شکار ہونا چاہئیں۔

آج اس بنیادی تبدیلی کے لئے امت مسلمہ اور اس کی ہمدرد و صلح اندیش ممتاز شخصیات کے پاس پہلے سے کہیں بڑھ کر زمینہ موجود ہے۔ آج، "اسلامی بیداری"؛ یعنی ممتاز شخصیات اور مسلمان جوانوں
کی جانب سے اپنے علمی و روحانی اثاثوں کی جانب بھرپور توجہ، ایک ناقابل انکار حقیقت بن چکی ہے۔ آج؛ 100 اور 50 سال قبل مغرب کی یمایاں ترین سوغات سمجھے جانے والے لبرل ازم اور کمیونزم نہ صرف مکمل طور پر منظر سے غائب ہو چکے ہیں بلکہ ان کے ناقابل تلافی عیوب بھی واضح ہو کر سامنے آ چکے ہیں۔ ایک نظام پر مبنی حکومت ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی جبکہ دوسرے نظام پر استوار حکومت گہرے بحرانوں میں گھر کر تباہی کے دہانے پر آن کھڑی ہے۔

آج مغرب کا نہ صرف ثقافتی ماڈل، جو پہلے دن سے ہی بے شرمی اور رسوائی کے ساتھ منظر عام پر آیا تھا، بلکہ سیاسی اور اقتصادی ماڈل بھی، یعنی دولت پر استوار ڈیموکریسی اور طبقاتی نظام اور امتیازی سلوک پر مبنی سرمایہ داری نے بھی اپنی نا اہلی اور بدعنوانی ثابت کر چکا ہے۔

آج عالم اسلام کے اندر وہ ممتاز شخصیات کم نہیں جو سر اٹھا کر پورے فخر کے ساتھ مغربی علمی و ثقافتی دعووں کو آڑے ہاتھوں لیتی ہیں اور ان کی متبادل اسلامی حقیقتوں کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ آج تو حتی ایسے مغربی مفکرین نے بھی مجبورا اپنا دعوی واپس لیتے ہوئے اپنی نظری و عملی سرگردانی کا اعتراف کر لیا ہے جو قبل ازیں بڑے فخر کے ساتھ لبرل ازم کو تاریخ کا اختتام قرار دیتے تھے۔

امریکی سڑکوں پر، امریکی حکام کی طرف سے اپنی عوام کے ساتھ اختیار کردہ رویے پر، اُس ملک کے اندر موجود طبقات کے درمیان گہرے فاصلوں پر، وہاں ملک چلانے کے لئے انتخاب کئے جانے والوں کے گھٹیاپن اور حماقت پر، وہاں موجود ہولناک نسلی امتیازات پر، ان امریکی اہلکاروں کے پتھر دلوں پر جو علی الاعلان ہزاروں راہگیروں کے سامنے کسی بھی غیرمجرم شخص کو شکنجے دے دے کر مار ڈالتے ہیں اور مغربی تمدن کے اخلاقی بحران کی گہرائیوں پر ڈالی جانے والی ایک نظر ہی مغرب کے سیاسی و اقتصادی فلسفے کی کجی کو آشکار کر دیتی ہے۔

کمزور ممالک کے ساتھ امریکہ کا رویہ اس پولیس والے کے رویے کی ایک
پڑی تصویر ہے جس نے ایک بے دفاع سیاہ فام شخص کی گردن پر گھٹنا رکھ کر اسقدر دبایا تھا کہ اس کی جان ہی نکل گئی۔ مغرب کی دوسری حکومتیں بھی اپنی طاقت اور وسائل کے اعتبار سے اسی تباہ کن رویے کا نمونہ ہیں۔

ابراہیمی حج، جدید جاہلیت کے مقابلے میں اسلام کے اندر موجود ایک عظیم حقیقت، اسلام  کی جانب دعوت عام اور اسلامی معاشرتی زندگی کی ایک علامتی نمایش ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس کی سب سے بڑی علامت؛ توحیدی محور کے گرد گردش پر مشتمل ان کی مسلسل حرکت کے ساتھ ساتھ مومنین کی بقائے باہمی ہے؛ ایک ایسی زندگی جس میں تنازعات و ٹکراؤ، امتیازی سلوک و اشرافی مراعات اور بدعنوانی و آلودگی سے دوری ایک بنیادی شرط قرار پائی ہے۔ شیطان کو پتھر مارنا (رمی جمرات)، مشرکین سے برأت کا اظہار، غرباء کے ساتھ مل بیٹھنا، مستحقین کی مدد کرنا اور اہل ایمان کے شعائر بجا لانا، جہاں کی اصلی ذمہ داریاں ہیں جبکہ خدا کی یاد، اس کے شکر اور اس کی بندگی کے ہمراہ عام مفادات کا حصول، اُس زندگی کے دوسرے اور آخری اہداف میں شامل ہے۔

یہ ابراہیمی حج کے آئینے میں نظر آنے والے اسلامی معاشرے کی ایک اجمالی سی تصویر ہے جس کا، بلند و بانگ دعووں سے بھرے مغربی معاشرے کی حقیقت کے ساتھ مقابلہ، ہر مسلمان کے دل کو ایسے (مسلمان) معاشرے تک پہنچنے کے لئے ہمت اور ضروری جدوجہد کے شوق سے بھر دیتا ہے۔

ہم، ایرانی عوام نے بھی رہبر کبیر امام خمینیؒ کی ہدایت میں ایسے ہی شوق کے ساتھ قدم بڑھائے اور بالآخر کامیاب ہو گئے۔ ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ ہم جو چیز جانتے اور چاہتے تھے، اسے ایک ہی دفعہ میں حاصل کر لیا ہے بلکہ ہمارا دعوی یہ ہے کہ ہم اس رستے میں بہت آگے نکل چکے ہیں اور اس دوران ہم نے بہت سی رکاوٹیں بھی عبور کی ہیں۔ قرآنی وعدوں پر اعتماد کی برکت سے ہمارے قدم مستحکم رہے ہیں۔ اس زمانے کا سب سے بڑا رہزن شیطان اور غدار یعنی امریکی رژیم بھی ہمیں ڈرانے، اپنے مکر و فریب کا
شکار بنانے یا ہماری مادی و روحانی ترقی میں رکاوٹ بننے میں ناکام رہا ہے۔

ہم تمام مسلمان قوموں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور ان تمام غیر مسلم لوگوں کے ساتھ بھی نیکی اور عدالت کے ساتھ پیش آتے ہیں جو ہمارے ساتھ جنگ نہ لڑیں۔ ہم مسلمان معاشروں کے غموں اور مسائل کو اپنے مسائل سمجھتے ہیں اور اس کے علاج کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ مظلوم فلسطین کی مدد، زخمی یمن کے لئے ہمدردی اور دنیا کے کسی بھی کونے پر موجود ظلم و ستم کا شکار مسلمانوں کے مسائل کا حل ہماری ہمیشہ کی سرگرمیوں کا ایک حصہ ہے۔

ہم بعض مسلمان ممالک کے سربراہوں کو نصیحت اپنا وظیفہ سمجھتے ہیں، وہ حکمران جو اپنے مسلمان بھائیوں پر تکیہ کرنے کے بجائے دشمن کی آغوش میں پناہ لیتے ہیں اور اپنے چند روزہ ذاتی مفاد کی خاطر دشمن کی جانب سے ہونے والی تحقیر اور زورزبردستی کو تحمل کرتے ہوئے اپنی قوم کی عزت و خودمختاری کو اونے پونے بیچ ڈالتے ہیں۔ وہ جو غاصب و ظالم صیہونی رژیم کی بقاء کو قبول کرتے ہوئے خفیہ اور آشکارا اس کے ساتھ دوستی کا ہاتھ ملاتے ہیں۔ ہم ان حکمرانوں کو نصیحت کرتے اور ان کے برے کاموں کے تلخ نتیجوں پر انہیں متنبہ کرتے ہیں۔

مغربی ایشیاء میں امریکی موجودگی کو ہم اس خطے کا نقصان اور خطے کے ممالک میں عدم تحفظ، تباہی اور عقب ماندگی کی اصلی وجہ سمجھتے ہیں۔ امریکہ کی حالیہ صورتحال اور اس کے اندر "نسل پرستی کے خلاف" چلنے والی وسیع عوامی تحریک کے حوالے سے ہمارا دوٹوک موقف "عوام کے ساتھ جانبداری اور اس ملک کی نسل پرست حکومت کے سنگدل رویے کی مذمت" ہے۔

آخر میں حضرت بقیۃ اللہ ارواحنا فداہ پر سلام و صلواۃ، امام خمینیؒ کی یادوں کے ساتھ تمام شہیدوں کی ارواح پر درود بھیجتے ہوئے اللہ تعالی سے امتِ مسلمہ کے لئے مستقبل قریب کے اندر محفوظ، مقبول اور مبارک حج کی دعا کرتا ہوں۔

والسلام علی عباد اللہ الصالحین

سید علی خامنہ ای
28 جولائی 2020ء
خبر کا کوڈ : 877398
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش