0
Sunday 9 Aug 2020 23:31

حکومت نے پاکستان کو انٹرنیشنل اسٹبلیشمنٹ کا غلام بنا دیا ہے، مشتاق خان

حکومت نے پاکستان کو انٹرنیشنل اسٹبلیشمنٹ کا غلام بنا دیا ہے، مشتاق خان
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ حکومت نے یونائٹڈ نیشن سیکورٹی کونسل ایمنڈمنڈ بل 2020ء، اینٹی ٹیرارزم ایمنڈمنڈ بل 2020ء قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرائے جبکہ میوچل لیگل اسسٹنس کریمنل میٹر بل 2020ء کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کرلیا گیا۔ تینوں قوانین کو ایف اے ٹی ایف کی ہدایت اور دباؤ کے نتیجے میں منظور کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور پی ٹی آئی ان قوانین کی منظوری کے لئے ایک پیج پر ہیں۔ تینوں بڑی جماعتوں نے پارلیمنٹ کو ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی کے حوالے کیا۔ ان قوانین سے شکیل آفریدی کو امریکہ، کلبھوشن یادیو کو ہندوستان کے حوالے کرنے اور ناموس رسالت (ص) کے مجرمین کو امریکہ اور یورپ بھجوانے کے لئے راہ ہموار کی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز اسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل عبدالواسع، ڈپٹی سیکرٹری جنرل و سیکرٹری اطلاعات سید صہیب الدین کاکاخیل، میڈیا کوآرڈینیٹر سید جماعت علی شاہ اور جے آئی یوتھ کے صوبائی صدر صدیق الرحمان پراچہ بھی موجود تھے۔

مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت مسلسل اپنے وعدوں اور دعوؤں سے انحراف کر رہی ہے۔ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے 71 ہزار وفاقی آسامیاں ختم کردی گئیں۔ ایک کروڑ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں، اوورسیز پاکستانی بڑے پیمانے پر واپس آگئے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ کا عذاب ہے۔ صنعتوں کا پہیہ رک چکا ہے۔ خیبر پختونخوا کو صوبائی کوٹے کے مطابق بجلی نہیں مل رہی، وزیراعلیٰ صوبائی حقوق پر سودہ بازی کرچکے ہیں، تاریخی مسجد میں گانے کی شوٹنگ اور فنکاروں کے کرتبوں سے ہمارے دل زخمی ہیں، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ملوث لوگ قومی جرم ہین، پنجاب حکومت کی ناکامی ہے، جب سے یہ حکومت آئی ہے اس قسم کی حرکتیں جاری ہیں، مسجد کی حرمت کی پامالی میں جو بھی ملوث ہیں ان کی خلاف تحقیقات کی جائیں، مجرموں کی نشاندہی اور انہیں سزا دی جائے۔ 7 ستمبر کو پورے صوبے میں ضلعی اور تحصیل ہیدکوارٹرز میں یوم تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سیمینارز، کانفرنسز، جلسے اور جلوس، کنونشن اور پروگرامات منعقد کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مغرب کی سازشوں کے خلاف عوام کو متحد کریں گے اور ان میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کریں گے۔ جماعت اسلامی پارلیمنٹ، میڈیا، چوکوں اور چوراہوں میں اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہے گی، ہم نے 6 ماہ کا منصوبہ بنایا ہے، حکومت کی ناقص اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف عوام کو نکالیں گے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے نے کہا کہ ملک پر مافیا کا قبضہ ہے، آئی پی پیز مافیا، فارما مافیا، آٹا اور گندم مافیا، شوگر، پٹرول اور ڈیزل مافیا کا قبضہ ہے، دوائیوں کی قیمتوں میں 2 سو فیصد اضافہ کیا گیا۔ مافیا کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں، مافیا کو عوام کو لوٹنے کی کھلی چھوٹ ہے، وافر مقدار میں گندم کی پیداوار کے باوجود آٹے اور گندم کی قلت ہے، وزیراعظم جب بھی نوٹس لیتے ہیں تو عوام پر مافیا کا ظلم مزید بڑھ جاتا ہے۔ حکومت نے پاکستان کو انٹرنیشنل اسٹبلیشمنٹ کا غلام بنا دیا ہے، ہماری آزادی خودمختاری کو گروی رکھ دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی خزانے کی چابیاں آئی ایم ایف کے حوالے کردی گئی ہیں، یہاں تک کہ ایف اے ٹی ایف کے دباؤ پر قانون سازی کی جارہی ہے۔ سیاسی جماعتیں آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے لئے تو اکھٹی ہوتی ہیں لیکن کبھی عوام کے لئے بھی اکھٹی ہوئیں ہیں۔؟ کبھی مافیاز کے خلاف قانون سازی کے لئے متفق ہوئیں۔؟ ہم ان تینوں قانون سازی کو مسترد اور پارٹیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بلز کے بعد پاکستان بین الاقوام کے لئے قانونی شکار گاہ بن گیا ہے۔ کسی پر بھی الزام لگا کر اسے پاکستان سے باہر لے جایا جاسکتا ہے۔ ابھی تک کسی بھی ملک نے پاکستان کو ایک بھی مجرم نہیں دیا۔ لیکن ہماری حکومت انہیں حوالے کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اے پی سی بلاتی اور جماعت اسلامی کو شرکت کی دعوت دیتی ہے تو ہم ضرور شرکت کریں گے اور وہاں اپنا موقف رکھیں گے۔ لیکن حکومت کے خلاف جدوجہد ہم جھنڈے، نعرے اور لیڈر شپ کے ساتھ کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 879275
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش