0
Monday 10 Aug 2020 10:53

دنیا بھر میں آزادی کی تحریکیں صرف تقریروں سے کامیاب نہیں ہوئیں، مسعود خان

دنیا بھر میں آزادی کی تحریکیں صرف تقریروں سے کامیاب نہیں ہوئیں، مسعود خان
اسلام ٹائمز۔ صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں آزادی کی تحریکیں صرف تقریروں سے کامیاب نہیں ہوئیں، ہندوستان جیسی قابض فوج ہمارے سلامتی کونسل میں جانے سے کشمیر کو آزاد نہیں کرے گی۔ سلامتی کونسل کے 4 مستقل ارکان بھارت کیساتھ ہیں، کشمیر کی آزادی کیلئے مصمم ارادے کے ساتھ حالات بدلنے کی ضرورت ہے، ہماری یہی روش رہی تو کشمیر ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گا، ہم کشمیر کے لئے چھ دفعہ جہاد کر چکے ہیں، بین الاقوامی سفارتکاری کے نکتہ نظر سے فلسطین اور کشمیر ناکام تجربے ہیں۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر 70سال گزرنے کے بعد بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا، مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی تحریک میں تبدیل کیے بغیر اقوام متحدہ ہمیں انصاف نہیں دے گا، مسئلہ کشمیر کو بوائلنگ پوائنٹ پر لے جایا جائے تاکہ ہندوستان کشمیر میں نسل کشی روکنے پر مجبور ہو، او آئی سی کا موجودہ لائحہ عمل حرف آخر نہیں ہے، پاکستان، ملائیشیا، ترکی اور ایران علیحدہ سے ایک سوچ پروان چڑھانا چاہتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار اںھوں نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کیلئے مصمم ارادے کے ساتھ حالات بدلنے کی ضرورت ہے، ہماری یہی روش رہی تو کشمیر ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گا، آج کشمیریوں سے ان کی زمین بھی چھینی جا رہی ہے۔ ہندوستان سے لاکھوں ہندو لا کر مقبوضہ کشمیر میں آباد کئے جا رہے ہیں، ہندوستان نے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی اپنی جغرافیائی حدود میں شامل کر لیا ہے۔مسعود خان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سفارتکاری کے نکتہ نظر سے فلسطین اور کشمیر ناکام تجربے ہیں، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر 70سال گزرنے کے بعد بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا، ہندوستان نے کشمیریوں کو تباہ کرنے کیلئے 9 لاکھ فوج کے ساتھ حملہ کر دیا ہے، کشمیری پانچ لاکھ جانوں کی قربانی دے چکے ہیں، کشمیریوں کو نجات دلانے کیلئے پاکستان، آزادکشمیر اور عالمی برادری کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ جہاد کی کئی قسمیں ہیں اس میں سفارتی و ذرائع ابلاغ کے ذریعہ کوششیں بھی شامل ہیں، جہاد ایک مقصد کیلئے ہوتا ہے بلاجواز قتال جہاد نہیں ہے، قتال غیر مسلم قوتیں غیرشرعی مقاصد کیلئے بھی کر سکتی ہیں لیکن جہاد صرف شرعی مقاصد کیلئے ہو سکتا ہے۔ جہاد کیلئے اجماع ہونا ضروری ہے ایک اتھارٹی جہاد کا فیصلہ کرے گی، اپنی اقدار، اپنے حقوق، اپنی تعلیمات اور طرز زندگی کے دفاع کیلئے لڑنا جہاد ہے، غزوات دیکھیں تو وہ سب دفاعی تھیں، ہم کشمیر کے لئے چھ دفعہ جہاد کر چکے ہیں، جہاد کے سلسلے میں معذرت خواہانہ لہجہ نہ اختیار کیا جائے، جہاد بنیادی طور پر ڈاکٹرائن آف وار ہے۔
خبر کا کوڈ : 879333
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش