0
Monday 10 Aug 2020 22:23

خیبر پختونخوا حکومت کے 2 سال، خواتین ارکان کابینہ میں نمائندگی سے محروم

خیبر پختونخوا حکومت کے 2 سال، خواتین ارکان کابینہ میں نمائندگی سے محروم
اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف مسلسل دوسری آئنی مدت کے لیے برسراقتدار ہے لیکن اس دوران پارٹی کی خواتین ارکان اسمبلی کابینہ میں نمائندگی سے محروم ہیں۔ 2018ء کے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں اس وقت کے گورنر انجنیئر اقبال ظفر جھگڑا کی جانب سے لیگی رکن سردار اورنگزیب نلوٹھہ کو ارکان سے حلف لینے اور اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کا فریضہ سونپا، صوبائی اسمبلی نے 17 اگست کو محمود خان کا بطور قائد ایوان انتخاب کیا، جن کا مقابلہ اپوزیشن کی جانب سے میاں نثار گل کاکاخیل نے کیا اور اسی روز محمود خان نے بطور وزیر اعلیٰ حلف اٹھایا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی نے 2 سال کے دوران مجموعی طور پر 12 سیشنز کا انعقاد کیا، جن کے دوران 110 نشستیں ہوئیں، 90 کے قریب بلوں اور قوانین کی منظوری دی گئی جب کہ 73 بل ایکٹ بنے، ان 12 سیشنز میں 136 سوالات نمٹائے گئے جب کہ 10 کے لگ بھگ تحاریک استحقاق کو نمٹانے کے علاوہ 104 قراردادوں کی منظوری دی گئی، 51 توجہ دلاﺅ نوٹس بھی اسمبلی میں پیش کیے گئے۔

ان 2 برسوں میں صوبائی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رہا اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم سمیت دیگر امور پر فاصلے پیدا ہونے کے بعد دوبارہ ان کے مابین قربتیں پیدا ہوئیں جبکہ قبائلی اضلاع سے نئے ارکان کے انتخاب کے باعث قائمہ کمیٹیاں ختم کرتے ہوئے نئی کمیٹیوں کے قیام کی راہ ہموار کی گئی، اس دوران اسپیکر مشتاق احمد غنی اور ڈپٹی اسپیکر محمود جان کے درمیان بھی تنازعات جاری رہے۔ 2 سال کے دوران وزیراعلیٰ محمود خان کو اندرونی طور پر حکومتی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وزیراعلیٰ کو اپنی ہی حکومت کے سینئر وزیر عاطف خان سمیت تین وزراء کی جانب سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں عاطف خان، شہرام ترکئی اور شکیل احمد کو کابینہ سے فارغ کردیا گیا، وزیراعلیٰ نے نئے وزراء کو کابینہ میں شامل کرنے کے ساتھ پہلے سے حکومتی ٹیم میں شامل ارکان کے قلمدان بھی تبدیل کیے۔
خبر کا کوڈ : 879499
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش