2
Saturday 12 Sep 2020 23:30
امارات و بحرین کیجانب سے اسرائیل کیساتھ دوستی معاہدے

اب عرب عوام جاگ اُٹھے اور مسئلۂ فلسطین کے حل کیلئے اپنے اور اپنی مزاحمت پر تکیہ شروع کر دے، یوسف الحساینہ

اب عرب عوام جاگ اُٹھے اور مسئلۂ فلسطین کے حل کیلئے اپنے اور اپنی مزاحمت پر تکیہ شروع کر دے، یوسف الحساینہ
اسلام ٹائمز۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک الجہاد الاسلامی فی فلسطین کے مرکزی رہنما یوسف الحساینہ نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے غاصب و بچوں کی قاتل صیہونی رژیم کے ساتھ دوستی معاہدے طے کئے جانے پر کھل کر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ عرب ای مجلے العہد کے مطابق یوسف الحساینہ نے اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ اب مسئلۂ فلسطین کو سرے سے ختم کرنے کی علی الاعلان سازشیں شروع ہو جانے کے بعد فلسطینی و عرب عوام کو چاہئے کہ وہ جاگ اٹھیں اور مسئلۂ فلسطین کی حفاظت کی خاطر خود اپنے اوپر اور اپنی مزاحمت پر تکیہ شروع کر دیں۔ انہوں نے پوری امتِ مسلمہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھی مسئلۂ فلسطین کو تباہ کرنے کی سازشوں کے خاتمے کے لئے اب اُٹھ کھڑی ہو۔

فلسطینی مزاحمتی تحریک جہاد اسلامی کے مرکزی رہنما نے العہد کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان تمام سازشوں اور بڑی بڑی خیانتوں کے باوجود کہ جن سے آج مسئلۂ فلسطین روبرو ہے، مسئلۂ فلسطین کی حفاظت کی ذمہ داری اُن آگاہ اقوام نے خود اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے جو روز بروز وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا بغور جائزہ لیتی ہیں جبکہ انہیں اقوام کی کوششوں کے باعث فلسطینی امنگوں کو خطرے سے دوچار کرنے والی یہ تمام سازشیں عنقریب ہی ریت کی دیوار ثابت ہوں گی۔ یوسف الحساینہ نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کی خیانتکار حکومتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم نے غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستی رچا کر نہ صرف مسئلۂ فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ مقابلے کے محاذ سے اپنی جدائی کا اعلان کر دیا ہے بلکہ ایران جیسی خطے کی ہوشیار اقوام کے خلاف بھی اسرائیل کے ساتھ مل کر فوجی اتحاد بنا لیا ہے لہذا اب تمہیں خطے کی تمام آزادی طلب طاقتوں اور خودمختاری کی خواہاں عوام کا مقابلہ بھی کرنا پڑے گا۔

جہاد اسلامی فلسطین کے مرکزی رہنما نے مسئلۂ فلسطین کے خلاف ہونے والی روز افزوں سازشوں کو مقابلہ کرنے کے لئے ایک نئی قومی حکمت عملی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ شب جاری ہونے والے ایک بیان میں اعلان کیا گیا تھا کہ بحرین بھی اب غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستی رچاتے ہوئے آئندہ 1 ماہ کے اندر اندر اس کے ساتھ اپنے معمول کے تعلقات قائم کر لے گا۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے دوستی معاہدے پر مبنی امریکی صدر کے اعلان کو ہنوز 1 ماہ کا عرصہ نہیں ہو پایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی کی جانب سے بحرین و اسرائیل دوستی معاہدے کا یہ اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف فلسطین سمیت پورے عالم اسلام میں بحرین و امارات کے غداری پر مبنی اقدامات کے خلاف پرزور احتجاج و مذمت جاری ہے۔
خبر کا کوڈ : 885906
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش