0
Sunday 13 Sep 2020 12:27

افغانستان کے آئندہ سیاسی نظام کا فیصلہ افغانوں کو کرنا ہے، مائیک پومپیو

افغانستان کے آئندہ سیاسی نظام کا فیصلہ افغانوں کو کرنا ہے، مائیک پومپیو
اسلام ٹائمز۔ افغانستان میں 19 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے افغان متحارب گروہوں کے مابین دوحہ میں مذاکرات جاری ہیں۔ افتتاحی تقریب میں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو، افغان ہائی کونسل برائے قومی مفاہمت عبداللہ عبداللہ، قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی، متعدد ممالک کے سینیئر سفارتکاروں کے علاوہ افغان حکومت اور طالبان وفد نے شرکت کی۔ 17 ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکومتی اداروں کے سربراہان نے اجلاس میں ورچوئلی شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق قطری وزیر خارجہ نے فوری اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کیا تاکہ ایک جامع سیاسی حل حاصل کیا جائے، انہوں نے کہا کہ حتمی سمجھوتہ جامع اور اس میں کسی کی فاتح یا شکست نہیں ہونی چاہیے۔ 

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے مذاکرات سے امریکا کی وابستہ توقعات بتاتے ہوئے دونوں فریقین سے کہا کہ ان چیزوں کا انتخاب کریں جو ان کے ملک کو تشدد اور بدعنوانی سے امن اور خوشحالی کی جانب لے جائے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کے سیاسی نظام کا فیصلہ افغانوں کو کرنا ہے لیکن ان کے لیے مشورہ ہے کہ جمہوریت کا انتخاب کریں کیوں کہ سیاسی طاقت کی پرامن گردش بہترین کام کرتی ہے اور یہ اقلیتوں کے حقوق محفوظ بناتے ہوئے اکثریتی رائے کی عکاس ہے۔ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے افغانستان میں اب تک حاصل کیے گئے سیاسی، سماجی اور مواشی فوائد کو محفوظ بنانے اور انہیں آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی جانب سے امریکا ایک خودمختار، متحد اور جمہوری افغانستان کا حامی ہے جس کے اندر اور پڑوسیوں کے ساتھ امن ہو۔

افغان امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ افغان حکومت اچھے ارادوں کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کر رہی ہے اور مخلصانہ بات کی جانب دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہو گی لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ ملک ماضی میں نہیں جا سکتا۔ افغان امن کونسل کے سربراہ نے یہ بات خصوصا آئین، انتخابات، آزادی اظہار رائے، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق، قانون کی عملدراری اور سیاسی حقوق کے نتاظر میں کہی جس میں ہونے والی پیشرفت کو محفوظ کیا جائے گا۔ دوسری جانب طالبان کے سیاسی دفتر کے ڈائریکٹر ملا برادر نے اپنے بیان میں امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے وابستگی کا عزم دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کرنے والے افغان افغان شہریوں کی پرامن اور خوشحال زندگی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 885981
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش