1
Sunday 13 Sep 2020 21:49

ایران-چین تعاون معاہدہ "زیادہ سے زیادہ امریکی دباؤ کے تابوت" میں آخری کیل ثابت ہو گا، روسی میڈیا

ایران-چین تعاون معاہدہ "زیادہ سے زیادہ امریکی دباؤ کے تابوت" میں آخری کیل ثابت ہو گا، روسی میڈیا
اسلام ٹائمز۔ روسی خبررساں ایجنسی اسپتنک میں بین الاقوامی امور کی لکھاری ایکاٹرینا بلینووا (Ekaterina Blinova) نے "ایران-چین تزویراتی تعاون: ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ امریکی دباؤ کے تابوت میں آخری کیل" کے عنوان سے تحریر کئے جانے والے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ جمہوریہ چین اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان عنقریب طے پانے والے اقتصادی و سکیورٹی معاہدے کا وہ مسودہ جو سب سے پہلے نیویارک ٹائمز میں نشر ہوا تھا، تاحال بین الاقوامی میڈیا میں گردش کر رہا ہے۔ روسی لکھاری نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ 18 صفحوں پر مشتمل فارسی زبان میں لکھی گئی اس دستاویز کے مطابق چین ایران میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا جس کے بدلے ایران بھی چین کو تیل میں قابل قدر رعایت دے گا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے میں نہ صرف تیل کی خرید و فروش بلکہ سکیورٹی تعاون، معلومات کا تبادلہ اور مشترک فوجی مشقیں بھی شامل ہیں۔

روسی خبررساں ایجنسی کی معروف لکھاری ایکاٹرینا بلینووا نے مزید لکھا کہ لمبے عرصے کے چین-ایران تعاون معاہدے کا یہ منظر جو ایران کے مغرب سے مڑ کر مشرق کی جانب آنے کی ایک واضح علامت بھی ہے، بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے مختلف ردعمل کے اظہار کا باعث بنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی مجلے فارن پالیسی نے اس معاہدے کو "مغرب کے لئے ایک بُری خبر" کے عنوان سے چھاپا ہے جس میں اس کی جانب سے مشرق وسطی اور ایشیا میں ایک نئی جیوپولیٹیکل تبدیلی کی پیشینگوئی کئے جانے کے ساتھ ساتھ یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ چین خطے کے اہم ممالک کے اندر اپنے قدم جما رہا ہے۔

روسی خبررساں ایجنسی کے مطابق 2 اگست 2020ء کے روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے بھی اس معاہدے کے حوالے سے خبردار کرنے والوں میں شامل ہوتے ہوئے امریکی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں یہ دعوی کر دیا تھا کہ ایران میں چین کی موجودگی مشرق وسطی کو "غیرمستحکم" کرتے ہوئے "اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات" کو خطرے میں ڈال دے گی۔ ایکاٹرینا بلینووا نے لکھا کہ اس حوالے سے ایران و مشرق وسطی کے امور کے ماہر ایرانی تجزیہ نگار ماہان عابدین کہتے ہیں کہ ایران نے اپنی تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیم سمیت ہر طرح کے تعاون کے لئے 150 سال مغرب اور خصوصا یورپ کی جانب دیکھا ہے حتی اسلامی جمہوریہ ایران میں (اسلامی انقلاب کے بعد) بھی یہ عمل نہیں رُکا اور گزشتہ 4 دہائیوں سے ایران کے اندرونی سیاسی حلقوں میں مغرب کے ساتھ تعلقات میں توسیع کے حوالے سے گرماگرم بحث جاری رہی ہے جو بالآخر اب ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) کی ناکامی اور امریکی بدمعاشی کے سامنے یورپ کی ناتوانی کے بعد ایران کے اندر یورپ سے اعتماد کے خاتمے کا باعث بن گئی ہے۔

روسی تجزیہ نگار نے ایران کے خلاف امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ پر مبنی سیاست کی کھلی ناکامی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران کے خلاف ٹرمپ حکومت کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی واضح طور پر غیر موثر ہو چکی ہے جبکہ اس حوالے سے ماہان عابدین کا کہنا ہے کہ ایران وسیع اور پیشرفتہ خارجہ پالیسی کا حامل ایک لچکدار ملک ہے جو گزشتہ 4 دہائیوں سے سخت ترین پابندیوں کا عادی بھی ہو گیا ہے لہذا نتیجے کے طور پر اسے عائد پابندیوں کو چکما دینے اور ناکام بنانے کے گُر بھی اچھی طرح آتے ہیں، مزید برآں یہ کہ ایرانی معیشت بعض لوگوں کی سوچ سے بڑھ کر پیچیدہ اور اپنے پیروں پر کھڑی ہے جو خام تیل کی فروخت کے بغیر بھی خود کو سنبھالنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ایکاٹرینا بلینووا نے مزید لکھا کہ تہران نے یکطرفہ امریکی پابندیوں کی علی الاعلان مخالفت کرتے ہوئے لاطینی امریکی ملک وینزوئلا کی کھلم کھلا مدد بھی کی ہے جبکہ سب سے بڑھ کر یہ کہ اگست میں سلامتی کونسل کے اندر ایران پر عائد اسلحے کی پابندیوں میں توسیع کے بارے پیش کردہ امریکی قرارداد کی کھلی شکست بین الاقوامی سطح پر آنے والی نئی تبدیلیوں کی واضح عکاسی کرتی ہے۔

روسی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی تجزیہ نگار ماہان عابدین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر ایران و چین کا باہمی تعاون معاہدہ ایک باقاعدہ اتحاد کی شکل میں انجام پا گیا تو حتما عالمی سطح پر کردار ادا کرنے کے حوالے سے ایران کی خوداعتمادی میں بھی بےپناہ اضافہ ہو جائے گا مثلا لاطینی امریکہ کے اندر پہلے سے کہیں بڑھ کر سرمایہ کاری وغیرہ۔ ایرانی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ایران تب اپنے "مزاحمتی مرکز" ہونے کے سیاسی-نظریاتی تصور کو مزید آگے بڑھائے گا تاکہ اس کی سیاست نہ صرف پورے خطے بلکہ یمن، شام، عراق اور لبنان سمیت لڑائی کے تمام مقامات تک پہنچ جائے۔ روسی خبررساں ایجنسی کا لکھنا ہے کہ خلاصۂ کلام یہ کہ ایران و چین کے درمیان تزویراتی مشارکت نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی مفاد کے ساتھ مکمل طور پر سازگار ہے بلکہ اس کی قومی سلامتی کی حفاظت میں بھی انتہائی مددگار ہے۔
خبر کا کوڈ : 886027
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش