0
Monday 14 Sep 2020 12:11

یورپی اراکین پارلیمان نے مسئلہ کشمیر کے یکطرفہ حل کا بھارتی مؤقف مسترد کر دیا

یورپی اراکین پارلیمان نے مسئلہ کشمیر کے یکطرفہ حل کا بھارتی مؤقف مسترد کر دیا
اسلام ٹائمز۔ یورپی یونین اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ بھارت یک طرفہ طور پر کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس آئندہ چند روز میں شروع ہونے والا ہے ایسے میں برطانیہ، یورپی یونین، بھارت، پاکستان، مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، سفارتکاروں اور قانون سازوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی برداری کو یہ بات معلوم ہونا چاہیے کہ گزشتہ برس 5 اگست کے بعد کشمیر کس طرح انتہائی پر آشوب بن گیا ہے اور اس سے خطے میں تنازعات میں اضافے کا خطرہ ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بات جناح انسٹیٹیوٹ کے ایک ویبینار (آن لائن سیمنار) میں کی گئی جس کا عنوان "کشمیر کا مستقبل، عالمی کثیر الجہتی اور علاقائی امن کے لیے ایک امتحان" تھا۔

اس سیشن کی سربراہی سینیٹر شیری رحمٰن نے کی جو جناح انسٹیٹیوٹ کی صدر ہیں ان کے علاقہ اس میں برطانوی اراکین پارلیمان اینڈریو گوینی، مقبوضہ کشمیر سے سینئر صحافی افتخار گیلانی، یورپی پارلیمان کے رکن مائیکل گھیلر، سابق پاکستانی سفارتکار طارق فاطمی، بھارتی کالم نگار اور بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق سیاستدان سدھیندرا کلکرنی، سابق یورپی رکن پارلیمنٹ جیلی وارڈ اور مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے پروفیفسر ڈاکٹر صدیق واحد شریک ہوئے۔سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں سب سے پرانا مسئلہ ہے اور اسے بھولنا یا علاقائی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیئے جسے عالمی برادری ایک طرف کر دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اسٹریٹیجک مسئلے اور عالمی تنازع کی حیثیت سے جو کہ جو جوہری طاقتوں کے مابین فالٹ لائن پر ہے اور جنگ کی طرف لے جاسکتا ہے اسے بالخصوص نئی دہلی کی جانب سے ظالمانہ یکطرفہ اقدامات کے بعد بھارت کے اندرونی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

برطانوی رکن پارلیمان ایڈریو گوینی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کشمیر پر بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے اور نشاندہی کی کہ اس معاملے پر برطانوی شہریوں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند کے وقت کشمیر کو حل کیے بغیر چھوڑ دیا گیا جس کی ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوتی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے ان کے ملک نے مثبت کردار ادا کیا۔ ویبینار کے دوران اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دنیا دو جوہری طاقتوں کے تنازع کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دوسری جانب رکن پارلیمان جیمز ڈیلی نے فروری 2020ء میں آزادکشمیر کے دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ کھلے دل کا سلوک کیا گیا، بدقسمتی سے ہمارے گروپ کو بھارت میں جانے نہیں دیا گیا اور ہم بھارتی حکومت کے ساتھ آزاد اور کھلے طریقے سے بات نہیں کر سکے۔
خبر کا کوڈ : 886118
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش