0
Monday 14 Sep 2020 22:02

عدالت نے نیب کو سہیل انور سیال اور ان کے رشتے داروں کے گھر چھاپوں سے روک دیا

عدالت نے نیب کو سہیل انور سیال اور ان کے رشتے داروں کے گھر چھاپوں سے روک دیا
اسلام ٹائمز۔ سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو پیپلز پارٹی رہنما سہیل انور سیال اور ان کے رشتے داروں کے گھر چھاپوں سے روک دیا اور آئندہ سماعت پر نیب سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں پیپلز پارٹی رہنما سہیل انور سیال و دیگر کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، عدالت نے نیب کو سہیل انور اور ان کے رشتے داروں کے گھر چھاپوں سے روک دیا۔ جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ نیب کو اختیار نہیں کسی کے گھر سرچ وارنٹ کے بغیر چھاپہ مارے، نیب کسی کے گھر جاکر بلاجواز خواتین کو ہراساں نہیں کرسکتا۔ جسٹس کے کے آغا کا کہنا تھا کہ نیب کو چاہیئے خواتین پولیس اہلکار بھی ساتھ لے جایا کرے، نیب کو سوسائٹی اور اس کے اقدار کا بھی خیال کرنا ہوگا۔ وکیل شیراز راجپر ایڈووکیٹ نے کہا کہ نیب نے بیمار والد، مرحوم چاچا، رشتہ داروں کے گھر چھاپے مارے، نیب نے سرچ وارنٹ کے بغیر چھاپے مارے جبکہ اہلکاروں نے خواتین کو ہراساں بھی کیا۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ سہیل انور سیال اور دیگر کے خلاف انکوائری مکمل کرلی، جائیدادوں کی قیمتوں کا تخمینہ لگانا باقی ہے، مہلت دی جائے۔ سندھ ہائی کورٹ نے سہیل انور، ظفر سیال، جمیل سومرو کی ضمانت میں 12 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر نیب سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

بعد ازاں پیپلز پارٹی رہنما سہیل انور سیال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے نیب کو بلا سرچ وارنٹ چھاپہ مارنے سے روک دیا ہے، میرے خلاف جاری انکوئری سے متعلق آج نیب نے مہلت مانگی ہے، انکوئری کو 2 سال ہورہے ہیں مگر کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا۔ سہیل انور سیال کا کہنا تھا کہ نیب نے آج بھی نہ بتایا کہ چھاپوں میں کون سی دستاویزات ملیں، نیب حکام نے میرے مرحوم چچا کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، نیب جس زمین اور گھر کی بات کر رہا ہے وہ ہماری خاندانی جائیداد ہے، ان کو اب کچھ نہیں مل رہا، اب کسی اور کیس میں شامل نہ کردیں، قانون کا احترام کرتا ہوں، میرے ساتھ انصاف کیا جائے یہ میرا حق ہے۔
خبر کا کوڈ : 886244
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش