0
Wednesday 16 Sep 2020 22:12

عالم استکبار عالم اسلام کے مقدسات کی سرعام توہین کی جسارت کر رہا ہے، علامہ باقر زیدی

عالم استکبار عالم اسلام کے مقدسات کی سرعام توہین کی جسارت کر رہا ہے، علامہ باقر زیدی
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ باقر عباس زیدی نے شہید ناموس رسالت سید علی رضا نقویؒ کی آٹھویں برسی کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملت تشیع نے ناموس رسالت کی حفاظت کیلئے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا، اسلام دشمن قوتوں نے جب بھی امت مسلمہ کی دینی غیرت و حمیت کو للکارا، مکتب اہلبیتؑ کے پیروکاروں نے صف اول میں کھڑے ہو کر انہیں اس لہجے میں جواب دے کر ثابت کیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ کے بارے میں کسی کو زبان درازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر عالم استکبار عالم اسلام کے مقدسات کی سرعام توہین کی جسارت کر رہا ہے، فرانسیسی اخبار میں نبی کریمؐ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور سوئڈن میں قران کریم کو نذر آتش کرنے کے واقعات امت مسلمہ کے خلاف استعماری سازشوں کی کڑی ہیں، جن کے خلاف تمام مسلمانوں کو بلاتخصیص مسلک اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں اپنے اصل دشمنوں کا درک کرنے کی بجائے آپس میں گتھم گتھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے زوال کا واحد سبب باہمی چپقلش ہے، اگر ہم اختلافات کو نظر انداز کرکے مشترکات پر باہم ہو جائیں، تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

علامہ باقر زیدی نے کہا تاریخ اس حقیقت کی شاید ہے کہ جب بھی نبی کریم کی شخصیت پر کسی گستاخ نے انگشت نمائی کی، ہمارے مجتہد عظام اور جید علماء کرام نے آگے بڑھ کر سب سے پہلے اس کا جواب دیا، حضرت امام خمینی ؒ کی جانب سے شاتم رسول سلمان رشدی کے واجب القتل ہونے کا فتوی نبی کریمؐ سے والہانہ عشق کا بین ثبوت اور عملی اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مکتب کی اس تربیت کا اثر ہے کہ توہین رسالت کے خلاف 16 ستمبر سن 2012ء کو شہید ناموس رسالت سید علی رضا تقویؒ نے امریکی سفارتخانہ کراچی کے سامنے احتجاج کیا اور گولیوں کا نشانہ بن کر شہادت کی سعادت حاصل کی۔ دریں اثنا مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں علامہ باقر عباس زیدی، علامہ مبشر حسن، مولانا ملک غلام عباس، میر تقی ظفر، زین رضا سمیت دیگر نے وادی حسینؑ قبرستان میں شہید علی رضا تقویؒ کی قبر پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔
خبر کا کوڈ : 886680
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش