0
Thursday 17 Sep 2020 00:29

گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے کا فیصلہ، وزیراعظم جلد اعلان کرینگے، گنڈاپور

گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے کا فیصلہ، وزیراعظم جلد اعلان کرینگے، گنڈاپور
اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کیلئے نئے آئینی سیٹ اپ کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی دی جائے گی۔ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دیئے جا رہے ہیں، وزیراعظم اپنے دورہ گلگت بلتستان کے دوران نئے آئینی سیٹ اپ کا اعلان کرینگے، آئینی سیٹ اپ کے تحت جی بی کو قومی اسمبلی و سینیٹ اور دیگر آئینی اداروں میں نمائندگی دی جائے گی۔ ایوان میں عوام کی نمائندگی کیلئے ڈویژنل سطح پر سیٹوں کی تقسیم ہوگی۔ بدھ کے روز اسلام آباد میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو آج تک کسی نے حقوق نہیں دیئے اور لوگ پوچھتے ہیں یہ کب ممکن ہوگا تو یاد رکھیں کہ اس وقت وہاں کی عوام سے زیادہ ہمیں جلدی ہے، تاکہ لوگوں کی محرومیاں ختم ہوں۔ اس حوالے سے ہم نے دو سال تک تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہے، دو سال تک بڑی محنت کی ہے اور تب جا کر ہم ایک جامع حل کی طرف پہنچے ہیں۔

وزیر امور کشمیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آئینی سیٹ اپ کے ساتھ سی پیک کے ذریعے میگا منصوبوں، اکنامک زونز، ہسپتال اور میڈیکل کالج کا بھی اعلان کرینگے۔ نئے سیٹ اپ کے باﺅجود گلگت بلتستان میں کوئی ٹیکس نہیں لگے گا، گندم پر سبسڈی بھی برقرار رہے گی۔ پورے خطے کے لوگوں کو صحت کارڈ دیا جائے گا، امیر غریب سب کو ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نیشنل بنک کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے جا رہی ہے، جس کے تحت گلگت بلتستان کے لوگوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں گے، جس کے ذریعے دو، دو کمروں پر مشتمل گھر تعمیر کیے جا سکیں، یہ کمرے سیاحوں کیلئے بھی استعمال کیے جا سکیں گے، تاکہ لوگوں کا روزگار چل سکے۔ جی بی میں سیاحت کیلئے سات سے آٹھ جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں راما لیک اور اپر کچورا سمیت دیگر علاقے شامل ہیں، وہاں سڑکوں اور دیگر سہولیات کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، سیاحوں کی سہولیات کیلئے پچاس سے ستر ریسٹ پوائنٹ بنا رہے ہیں، لوگوں کو کھوکھے بنا کر دیں گے، تاکہ ان کا روزگار بھی ممکن ہوسکے، ہر ضلع میں ٹوریسٹ ریسٹ ہاﺅس بنائے جائیں گے۔

گنڈاپور نے مزید کہا کہ بابو سر پہ ایک ٹنل کا بھی منصوبہ ہے، بابوسر ٹنل کو پورا سال کھلا رکھنے کے قابل بنائیں گے۔ شتونگ نالے کو سدپارہ ڈیم میں شامل کرنے پر بھی پیشرفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفیظ الرحمن کے حوالے سے ادارے تحقیقات کر رہے ہیں، نون لیگ کے دور میں جو کرپشن ہوئی ہے، اس کا حساب کتاب ضرور ہوگا اور اس حوالے سے ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور وہ تحقیقات کر رہے ہیں، حفیظ الرحمن کی کرپشن کا ہر صورت حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا احساس پروگرام کے تحت غریبوں کی مدد کی جائے گی، دیامر بھاشا ڈیم کے تمام ایشوز کو حل کیا جائے گا، ملازمتوں کے حوالے سے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔ سکردو روڈ پر ٹنل پی سی ون کے تحت بننا چاہیئے تھا، لیکن چونکہ اب ٹینڈر ہوچکا اور کام جاری ہے، اس لیے فیز ٹو میں اے ڈی پی میں رکھا جائے گا۔ جی بی میں میڈیکل کالج بنانے جا رہے ہیں، ہسپتالوں میں جدید مشینری اور ایم آر آئی مشین فراہم کی جائے گی۔

علی امین گنڈا پور نے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے کہا کہ ابھی تک کس جماعت نے اعلان کیا ہے، جو ہم رہ گئے ہیں؟ الیکشن شیڈول سے قبل یا الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد ٹکٹوں کا اعلان کریں گے، جبکہ انتخابات پندرہ نومبر تک ہر صورت ہونگے۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی عوام کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے انڈسٹریل ذون دیں گے۔ عوام نواز شریف اور پیپلز پارٹی سے پوچھیں انہوں نے وہاں کے عوام کو اندھیرے میں کیوں رکھا۔ جی بی میں بننے والا اکنامک زون سب سے زیادہ پاور فل اکنامک زون ہوگا۔ جی بی کے عوام کو وہ کچھ دیں گے، جو تاریخ میں کسی نے نہیں دیا، کیونکہ ہمیں معلوم ہے حقوق نہ ملنے کی وجہ سے کچھ قوم پرست اور نوجوان احساس محرومی کا شکار ہو کر راستہ بھٹک گئے، جس میں ہماری بھی بہت غلطیاں ہیں، جب ہم حقوق نہیں دیں گے تو ایسا تو ہونا ہی تھا۔

اسی وجہ سے عبد الحمید بیرون ملک سے وعدہ معاف گواہ بنا، جسے معافی مل گئی جبکہ بابا جان اور دیگر قیدیوں کے حوالے سے صوبائی سیٹ اپ ملنے کے بعد اچھی خبر ملے گی۔ وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ میری تمام پلاننگ سیاحت، مائننگ اور جنگلات پر ہے، جس سے جی بی کے عوام کی تقدیر بدل جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں علی امین گنڈا پور نے کہا پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان انتخابات میں کسی بھی لوکل سیاسی جماعت سے اتحاد کرسکتی ہے تاہم مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سے کسی صورت اتحاد ممکن نہیں، جبکہ حفیظ الرحمن کی سابقہ کرپشن اور اقرباء پروری کا مکمل حساب لیں گے، کوئی بھی شخص قومی خزانے اور عوام کے بجٹ کی لوٹ مار نہیں کرسکتا اور پاکستان تحریک انصاف کرپشن کے روز اول سے خلاف ہے۔
خبر کا کوڈ : 886692
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش