0
Thursday 17 Sep 2020 11:43

ایف اے ٹی ایف ام الخبائس ہے، سینیٹر مشتاق خان

ایف اے ٹی ایف ام الخبائس ہے، سینیٹر مشتاق خان
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ام الخبائس اور ساہوکاروں کی انجمن ہے۔ ایف اے ٹی ایف سے بھیک مانگنے کے لئے حکومت نے شیر قوم کو لومڑی بنا دیا ہے۔ وزیراعظم نے ٹیپو سلطان بننے کا اعلان کیا تھا لیکن آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے حکومت کی پالیسیاں بہادر شاہ ظفر کی ہیں۔ 80 فیصد سینیٹرز کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی خوشنودی کے لئے پاس کئے گئے بلوں میں ہے کیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کا خفیہ مشاورت کرکے اکثریت کو غلام بنانے کا رویہ درست نہیں، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے پارلیمنٹیرینز کو سیاسی غلام بنایا ہے۔ ہم ان بلوں کو مسترد کرتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔ نیب کا قانون آرٹیکل 25، آرٹیکل 10 اور 10 اے کے خلاف ہے۔ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف قوانین کے ہم بھی حق میں ہیں لیکن یہ قوانین ایف اے ٹی ایف کی جانب سے آنے کی بجائے ہمیں خود اپنے قومی مفاد میں بنانے چاہئیں۔ حکومت اور اپوزیشن نے پارلیمنٹ کو ربڑ سٹیمپ بنادیا ہے۔ سر عام پھانسیاں عوام کی آواز اور مسائل کا حل ہیں لیکن حکومت یورپی یونین کے خوف کی وجہ سے قانون سازی نہیں کر رہی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پارلیمانی روایات کو پامال کردیا ہے۔ ایک ہی دن میں بل کمیٹی میں جانے اور وہاں سے پاس ہونے کے بعد جلدی جلدی میں سینٹ سے پاس کرکے رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس کو پامال کردیا گیا۔ ایف اے ٹی ایف کی خوشنودی کے لئے آئین سے ماورا قانون سازی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ سیاست اور پارلیمنٹ سے مایوس ہو رہے ہیں۔ قومی اسمبلی نے ایک پارلیمانی سال میں 29 قوانین بنائے، ان میں سے صرف 14 قوانین ایسے ہیں جو عوامی فلاح و بہبود کے ہیں ہی نہیں۔ 31 صدارتی آرڈیننس جاری کرکے پارلیمنٹ کو بائی پاس کردیا گیا۔ سمجھ نہیں آرہی یہ سیکورٹی اسٹیبلیشمنٹ کا کارنامہ ہے، این آر او کی کارستانی ہے یا نیب کا خوف ہے کہ شدید اختلاف اور فاصلوں کو شراکت داری میں بدل دیا گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ اتنا اتفاق رائے کیسے ہوگیا؟ انہوں نے کہا کہ کراچی ڈوب رہا ہے، آئی پی پیز، شوگر ملز، فلور ملز اور ڈرگ مافیا نے عوام کا خون چوس لیا ہے، ہماری بچیاں لٹ رہی ہیں، خواتین اور بچے لٹ رہے ہیں، امن و امان نہیں ہے، یہ پارلیمنٹ اور بڑی پارٹیاں ان عوامی مسائل کے حل کے لئے متفق اور پریشان نہیں ہوتیں لیکن 24 گھنٹوں میں ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے لئے متفق ہوجاتی ہیں۔ 
خبر کا کوڈ : 886702
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش