0
Thursday 17 Sep 2020 02:02

بشار الاسد کو قتل کرنا چاہتا تھا لیکن وزیر دفاع نے روک دیا، ٹرمپ

بشار الاسد کو قتل کرنا چاہتا تھا لیکن وزیر دفاع نے روک دیا، ٹرمپ
اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 2017ء میں شام کے صدر بشار الاسد کو مروانا چاہتے تھے لیکن اُس وقت کے وزیر دفاع جیمز میٹس نے ایسا کرنے سے روک دیا۔ امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کے ایک پروگرام میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ میں شامی صدر بشار الاسد کو راستے سے ہٹا دینا چاہتا تھا، جس کیلیے منصوبہ تیار تھا لیکن کم ہمت وزیر دفاع جیمز میٹس آڑے آگئے اور ہم اس پر عمل درآمد نہیں کراسکے۔ یہ تقریباً وہی بات ہے جس کا واشنگٹن پوسٹ کے صحافی باب ووڈورڈ نے اپنی کتاب ’’فیئر: ٹرمپ ان دی وائٹ ہاؤس‘‘ میں 2018ء کو انکشاف کیا تھا اور تب صدر ٹرمپ نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس (بشار الاسد کو قتل کرنے) پر کبھی غور بھی نہیں کیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے صدر بشار الاسد کو قتل کرنے کا انکشاف سابق وزیر دفاع جیمز میٹس کو نیچا دیکھانے کے لیے کیا، صدر ٹرمپ آئے دن اپنے بیانات میں جیمز میٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ یہ وہی جیمز میٹس ہیں جب انہیں وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے زمین و آسمان کی قلابیں ملاتے ہوئے انہیں ’’عظیم آدمی‘‘ کے طور پر سراہا تھا۔ اپریل 2017ء میں شام کے صدر بشار الاسد پر کیمیائی حملوں کے الزامات سامنے آنے پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کو چاہیئے کہ وہ بشار الاسد پر حملہ کرکے قتل کر دیں۔
خبر کا کوڈ : 886711
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش