0
Thursday 17 Sep 2020 09:51

8 سال، 170 سماعتوں کے بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کا فیصلہ آج سنایا جائیگا

8 سال، 170 سماعتوں کے بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کا فیصلہ آج سنایا جائیگا
اسلام ٹائمز۔ آٹھ سال میں 170 سماعتوں کے بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کا محفوظ فیصلہ آج سنایا جائے گا، زندہ جلائے گئے 259 افراد کے لواحقین کو آج انصاف ملنے کی توقع ہے۔ تفصیلات کے مطابق واقعہ 11 ستمبر 2012ء کو بلديہ ٹاؤن کی فيکٹری ميں پیش آیا تھا، جہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ابتدائی طور پر واقعہ کو شارٹ سرکٹ کا نتيجہ قرار ديا گيا، ليکن بعد میں وائنٹ انٹروگیشن ٹیم نے اصل وجہ کا پتا لگایا۔ رپورٹ ميں کہا گيا کہ آگ لگی نہيں بلکہ بھتہ نہ دينے پر لگائی گئی تھی۔ سانحہ بلديہ کے سفاک ملزمان میں زبیر چریا اور عبدالرحمان بھولا سرفہرست ہیں۔ فیکٹری کو آگ لگانے سے پہلے زبیر چریا 5 ساتھیوں سمیت آیا۔ ملزمان کے ہاتھوں میں سیاہ تھیلے تھے، جن میں رکھی گئی اشیا سے آگ لگائی۔ گواہ نے عدالت میں بتایا کہ عبدالرحمان بھولا اس وقت چرس پی رہا تھا، جب لوگ اندر زندہ جل رہے تھے۔ عبدالرحمان بھولا کو بینکاک سے گرفتار کیا گیا تھا۔

تحقيقاتی ٹربيونل نے واقعہ کو شارٹ سرکٹ کا نتيجہ قرار ديا۔ کیس میں ايم کيو ايم کے کارکن رضوان قريشی کيخلاف تفتيشی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑا۔ اس کیس کو 11 مارچ 2017ء انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کيا گيا تھا، جب کہ انسداد دہشتگردی عدالت نے کیس کا فیصلہ 2 ستمبر 2020ء کو محفوظ کیا تھا۔ کیس کی 8 سالوں میں 170 سماعتيں ہوئیں۔ 12 ستمبر 2012ء کو فيکٹری مالکان کے خلاف ہی مقدمہ درج کيا گیا۔ بعد ازاں 14 ستمبر 2012ء کو فیکٹری مالکان عبدالعزيز بھائلہ، ارشد بھائلہ اور راشد بھائلہ نے سندھ ہائي کورٹ سے ضمانت حاصل کیں۔ کیس کی شفاف تحقیقات کیلئے عوام کا دباؤ بڑھا، تو سندھ حکومت نے 12 سمتبر کو سندھ ہائيکورٹ کے سابق جج زاہد قربان کی سربراہی ميں تحقيقاتی ٹريبونل قائم کیا۔

7 فروری 2015ء کو پيش کی گئی رپورٹ ميں انکشاف ہوا کہ بلديہ فيکٹری ميں آگ لگی نہيں لگائی گئی تھی۔ 23 فروری 2016ء کو ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی ميں جے آئی ٹی نے بھی يہی رپورٹ دی اور مقدمہ ميں دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے کی بھی سفارش کی۔ سال 2018ء میں 11 مارچ کو مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کيا گيا۔ 19 ستمبر 2019ء کو مقدمے ميں اہم موڑ آيا۔ فيکٹری مالک ارشد بھائلہ نے ويڈيو لنک کے ذريعے بيان ريکارڈ کرايا۔ 21 نومبر 2019ء استغاثہ کی جانب سے شواہد مکمل ہوگئے۔ عدالت نے 400 گواہوں کے بيانات ريکارڈ کيے۔ 3 فروری سال 2020ء کو فريقين کے وکلا کے حتمی دلائل کا آغاز ہوا۔ 2 ستمبر کو دلائل مکمل ہونے پر فيصلہ محفوظ کيا گيا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں کی جانب سے 2، 3 اور 5 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا گیا، مگر امداد نہ ملی۔
خبر کا کوڈ : 886742
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش