0
Monday 21 Sep 2020 09:19

گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کیلئے آئین میں ترمیم کا فیصلہ

گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کیلئے آئین میں ترمیم کا فیصلہ
اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کیلئے آئین میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جی بی الیکشن اور عبوری صوبے کے معاملے پر سیاسی و عسکری قیادت کی اہم ترین میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جی بی کو عبوری صوبہ بنانے کیلئے آئین کے آرٹیکل ون، آرٹیکل اکیاون اور آرٹیکل 257 اور 258 میں ترامیم کی جائیں گی۔ الیکشن کے دوران سول امور اور معاملات کو سول انتظامیہ ہی سرانجام دے گی۔ وفاقی وزیر شیخ رشید نے اجلاس کے حوالے سے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابات شفاف ہوں گے، مقتدر حلقوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ انہیں کسی کام میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں، انہیں ملک کی سلامتی اور جموریت عزیز ہے، الیشن میں جو بھی پارٹی منتخب ہو کر آئے گی ہم ساتھ کھڑے ہوں گے۔ واضح رہے کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل ایک پاکستان کی جغرافیائی حدود کا تعین کرتا ہے۔ آرٹیکل ون کے مطابق پاکستان کے چار صوبے یعنی پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان پر مشتمل ہے۔

آرٹیکل ون کے سب سیشن 3 کے مطابق مجلس شوریٰ یعنی پارلیمنٹ بذریعہ قانون وفاق میں نئی ریاستوں یا علاقوں کو ایسی قیود و شرائط پر داخل کر سکتی ہے جو وہ مناسب سمجھے۔ اگر گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنایا جاتا ہے تو آرٹیکل ون میں ترمیم کی جائے گی جس میں پاکستان کے صوبوں میں گلگت بلتستان کا نام بھی شامل کیا جائے گا۔ آرٹیکل اکیاون قومی اسمبلی کی نشستوں اور صوبوں میں ان کی تقسیم کے حوالے سے ہے، آرٹیکل اکیاون کے تحت قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 342 مقرر کی گئی ہے۔ اگر جی بی کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دی جاتی ہے تو اس آرٹیکل میں ترمیم کر کے نشستیں بڑھانا ہوں گی۔ آئین کا آرٹیکل 257 ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں تو پاکستان اور مذکورہ ریاست کے درمیان تعلقات مذکورہ ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق متعین ہوں گے۔

جبکہ آرٹیکل 258 صوبوں سے باہر کے علاقہ جات کے نظم و نسق سے متعلق ہے۔ یعنی وہ علاقے جو پاکستان کا حصہ تو ہیں لیکن کسی صوبے کے ساتھ نہیں۔ گلگت بلتستان اسی آرٹیکل کے ساتھ پاکستان میں شامل ہے اور گورننس آرڈر اسی آرٹیکل کے تحت یہاں نافذ ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سترہ جنوری دو ہزار انیس کے فیصلے میں تحریک انصاف کی جانب سے تیار کردہ نئے آرڈر کو بھی شامل کیا تھا جس کے ابتدائیے میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانا چاہتی ہے تاہم اس کیلئے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی جبکہ اس وقت حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ آئین میں ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانا چاہتی ہے تو آئین کے ایک ہی آرٹیکل میں ترمیم کرکے تمام چیزوں کو اسی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 887474
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش