0
Thursday 24 Sep 2020 23:24

اے ٹی ایمز ہیک کرنے والے گروہ کا سراغ مل گیا، سرکاری ملازمین کے ملوث ہونے کا انکشاف

اے ٹی ایمز ہیک کرنے والے گروہ کا سراغ مل گیا، سرکاری ملازمین کے ملوث ہونے کا انکشاف
اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے نے راولپنڈی کی مختلف اے ٹی ایمز ہیک کرکے پیسے نکالنے والے گینگ کا سراغ لگا لیا، 5 رکنی گینگ میں دو سرکاری ملازم کے بھی مبینہ طور پر ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ادارے کے بینکنگ سرکل اور سائبر کرائم سرکل نے شہریوں کی اے ٹی ایم کے ذریعے رقم غیر قانونی طور پر ٹرانسفر ہونے کے معاملے پر تحقیقات مکمل کرکے پانچ رکنی اے ٹی ایم ہیکنگ گینگ کا پتا لگالیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی مختلف تحقیقاتی ٹیمیں اے ٹی ایم اسکینڈل پر کام کر رہی تھی، ٹیموں کو بڑی کامیابیاں مل چکی ہیں، شہریوں کے اکاؤنٹس سے رقم ٹرانسفر کرنے کا طویل ڈیٹا ایف آئی اے کو موصول ہوا تھا، تحقیقات کے دوران پتا چلا ہے کہ اے ٹی ایم ہیک کرکے شہریوں کے اکاؤنٹس سے رقم نکالنے والا گینگ راولپنڈی سے آپریٹ ہو رہا ہے، جو مختلف اے ٹی ایم کو ہیک کرکے شہریوں کی رقم مختلف اکاونٹس میں ٹرانسفر کردیتے تھے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اے ٹی ایم سے رقم نکالنے والے گینگ کا سراغ مقامی پولیس کی مدد کے بغیر لگایا گیا۔ گینگ میں اب تک پانچ ملزمان کی نشاندہی ہوچکی ہے جو متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ گینگ میں دو سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں جو الگ الگ سرکاری محکموں میں ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں، اس گینگ نے عید قربان کے موقع پر درجنوں اے ٹی ایم ہیک کرکے لاکھوں روپے کی رقم مختلف اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کیے تھے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایف آئی اے نے تمام ملزمان کے ٹھکانوں کو پتا لگا لیا ہے، تمام ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا، ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد حاصل کیے جاچکے ہیں جس میں مختلف اے ٹی ایمز میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور اکاؤنٹس کی تفصیلات شامل ہیں، اب ملزمان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔

ذرائع نے توقع ظاہر کی ہے کہ گینگ کی گرفتاری کے بعد اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کی سیکڑوں وارداتیں ٹریس ہوجائیں گی،قبل ازیں گرفتار ہونے والے گینگ میں غیر ملکی افراد بھی شامل تھے جن کا تعلق مختلف ممالک سے تھا لیکن اس مرتبہ تحقیقات میں ثابت ہوا ہے کہ اے ٹی ایم ہیکرز کا تعلق راولپنڈی سے ہے جو آئی ٹی میں مہارت رکھتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 888228
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش