1
Friday 9 Oct 2020 23:54

1967ء کا نہیں بلکہ پورا فلسطین آزاد ہونا چاہیئے، اخوان المسلمین سوڈان

1967ء کا نہیں بلکہ پورا فلسطین آزاد ہونا چاہیئے، اخوان المسلمین سوڈان
اسلام ٹائمز۔ سوڈان کی دینی جماعت، اخوان المسلمین کے مرکزی رہنماء عادل علی اللہ نے غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات کی شدید مذمت کی ہے۔ عادل علی اللہ نے عرب نیوز چینل عربی-21 کے ساتھ مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے اخوان المسلمین کے تاریخی موقف پر بات چیت کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ فلسطین کی پوری کی پوری سرزمین کو آزاد کیا جانا چاہیئے نہ کہ صرف سال 1967ء کی حدود کے اندر آنے والی سرزمین کو۔ انہوں نے کہا کہ آجکل غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستی کے لئے بعض عرب ممالک کی دوڑ لگی ہوئی ہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس طریقے سے اپنے بعض آقاؤں کو راضی رکھیں۔ عادل علی اللہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستی کی دوڑ آمر رژیموں کی جانب سے شروع کی گئی ہے نہ کہ عرب قوم کی جانب سے۔

سوڈانی دینی جماعت اخوان المسلمین کے مرکزی رہنماء نے اپنے انٹرویو میں زور دیتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک پر قابض آمر حکومتوں کا خیال ہے کہ وہ عالمی نظام کے ساتھ چل رہے ہیں اور یہ کہ یہ مسئلہ (فلسطین) یہودیوں اور عربوں کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا بلکہ صرف سرزمین پر قبضے کا ایک مسئلہ ہے۔ عادل علی اللہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستیاں بڑھانے والی رژیمیں آمر ہیں جبکہ اس دوستی پر مبنی فیصلہ بھی ان حکومتوں کا ہی ہے نہ کہ ان کی قوموں کا۔ اخوان المسلمین سوڈان کے مرکزی رہنماء نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی استواری اخوان المسلمین کے نزدیک مسئلۂ فلسطین کے ساتھ خیانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم عرب اقوام کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ فلسطین کے اسلامی مقدس مقامات کو اس غاصب صیہونی رژیم کے ہاتھوں سے جلد از جلد آزاد کروایا جانا چاہیئے۔

عادل علی اللہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل کو باقاعدہ ملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتے بلکہ اسے ہم غاصب رژیم گردانتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی استواری کے مخالف ہیں، تاکہ مسئلۂ فلسطین کو مکمل طور پر حل کیا جا سکے۔ اخوان المسلمین سوڈان کے مرکزی رہنماء نے کہا کہ امریکہ سمیت غاصب صیہونی رژیم کے دوسرے حامی ممالک کی کوشش ہے کہ وہ سوڈان پر اقتصادی حوالے سے دباؤ ڈالنے کے بعد اُسے یہ خیالی تصویر دکھائیں کہ غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے سے سوڈانی حکومت کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ عادل علی اللہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے جبکہ یہ سب توہمات اور ثابت شدہ غلط باتیں ہیں، کیونکہ ان ممالک کو، جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کئے ہیں، نہ صرف کوئی اقتصادی فائدہ میسر نہیں آیا بلکہ ان کی حالت پہلے سے بھی زیادہ ابتر ہوگئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 891157
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش