0
Thursday 22 Oct 2020 21:48

بی جے پی کو اپنی ساکھ بچانے میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دے رہی ہے، علی ساگر

بی جے پی کو اپنی ساکھ بچانے میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دے رہی ہے، علی ساگر
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے لیڈروں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ میں طلبی پر زبردست برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اختلافِ رائے کی کسی بھی آواز کو ختم کرنے کی بھارتی حکومت کی پالیسی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ نیشنل کانفرنس کا ایک ہنگامی اجلاس جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر منعقد ہوا، جس میں پارٹی کے چوٹی کے لیڈران شامل تھے۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ قرارداد میں محض 3 دن میں ڈاکٹر فاروق کی دوسری بار طلبی کو سیاسی انتقام گیری پر مبنی منصوبہ بند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے حربے جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو توڑنے کی مذموم کوشش ہے۔

انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں طلبی کو دھونس و دباؤ کا حربہ قرار دیتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ گذشتہ روز 83 سالہ رکن پارلیمان سے 6 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کے بعد ای ڈی کو ایسا کیا پوچھنا باقی رہ گیا تھا کہ ایک روز بعد دوبارہ سمن بھیجا گیا۔ حکومت اور اس کی ایجنسیوں کو قانون کی پاسداری کرنے والے شہری جو مختلف امراض میں مبتلا ہے اور جس کی قوت مدافعت انتہائی کمزور ہے، کی صحت کا پاس و لحاظ نہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی کو اپنی ساکھ بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ یہ لوگ اس بات میں راحت محسوس کرتے ہیں کہ قوم انہیں غنڈہ گردوں کے طور دیکھے۔

این سی کے ترجمان نے کہا کہ بی جے پی حزب اختلاف پر دھونس جمانے کے لئے کب تک سی بی آئی، ای ڈی، اینٹی کرپشن بیورو اور اس کی دیگر ایجنسیوں کا استعمال کرے گی۔؟ اب یہ معمول کی بات ہوگئی ہے جو کوئی بھی حکومت کے خلاف بولتا ہے اور بھاجپا کی تقسیمی سیاست کے خلاف آواز اُٹھانے کی جرأت کرتا ہے اُس کی مختلف ایجنسیوں میں طلبی شروع ہوجاتی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اس طرح کی کارروائیاں جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی کے لئے ہماری جدوجہد میں حائل نہیں آسکتیں۔
خبر کا کوڈ : 893483
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش