1
Friday 23 Oct 2020 00:39

امریکی انتخابات میں ایرانی مداخلت کا الزام "مضحکہ خیز" ہے، علی رضا میر یوسفی

امریکی انتخابات میں ایرانی مداخلت کا الزام "مضحکہ خیز" ہے، علی رضا میر یوسفی
اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے علی رضا میر یوسفی نے امریکی قومی انٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف (John Lee Ratcliffe) کی جانب سے ایران پر عائد کئے جانے والے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کے الزام کو "مضحکہ خیز" قرار دیا ہے۔ علی رضا میر یوسفی نے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے اپنے ایک پیغام میں امریکی حکام کی جانب سے ایران پر عائد کئے جانے والے مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ کے برخلاف، ایران دوسرے ممالک کے انتخابات میں مداخلت نہیں کرتا جبکہ امریکی حکومت کی جانب سے اپنے ملکی انتخابات کے نتائج کو "مشکوک" بنانے کے لئے کی جانے والی عوامی کوششوں پر پوری دنیا گواہ ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ یہ مضحکہ خیز الزامات (امریکی) ووٹرز کے اعتماد کو ختم کرنے کی سازش سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ایران، امریکی انتخابات میں مداخلت میں کوئی دلچسپی رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے نتیجے کو کوئی اہمیت دیتا ہے جبکہ امریکہ کو چاہیئے کہ وہ ایران کے خلاف شرارت پسندانہ الزامات عائد کرنے کا سلسلہ بند کر دے۔

واضح رہے کہ امریکی مرکزی تفتییشی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے (Christopher Wray) اور امریکی قومی انٹیلیجنس ایجنسی (National Intelligence) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے امریکی انتخابات کے حوالے سے گذشتہ روز منعقد ہونے والی اپنی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران اور روس نے 3 نومبر 2020ء کے روز منعقد ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی خاطر امریکی ووٹرز کی تمام معلومات حاصل کر لی ہیں۔ ریٹکلف نے کہا تھا کہ ایران نے امریکی ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے کے لئے انہیں جعلی ای میلز بھی ارسال کی ہیں، تاکہ معاشرتی بدامنی پیدا کرکے آئندہ صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی پوزیشن کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ علاوہ ازیں خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی گذشتہ کئی مہینوں سے عجیب و غریب بے بنیاد دعووں کے ذریعے امریکی صدارتی انتخابات کو مشکوک بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح کے ایک دعوے میں امریکی صدر نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ صدارتی انتخابات کا نتیجہ ہفتوں، مہینوں یا سالوں تک یا ہرگز مشخص نہ کیا جا سکے، کیونکہ ڈاک کے ذریعے منعقد کئے جانے والے انتخابات میں دھاندلی کا زیادہ خطرہ موجود ہے۔
خبر کا کوڈ : 893527
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش