0
Sunday 25 Oct 2020 11:02

آئین کے خلاف آرڈیننس کو رد کیا جا سکتا ہے، رضا ربانی

آئین کے خلاف آرڈیننس کو رد کیا جا سکتا ہے، رضا ربانی
اسلام ٹائمز۔ سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ آئین کی دفعہ 89 کی شرائط پوری کیے بغیر جاری کردہ آرڈیننس کو رد کیا جا سکتا ہے۔ عدالت میں حد سے زیادہ آرڈیننس نافذ کرنے کے خلاف دائر درخواست میں عدالتی معاون سینیٹر رضا ربانی نے عدالت کو بتایا کہ جب کسی آرڈیننس کو آرڈیننس کے نفاذ کے لیے آئین کی دفعہ 89 کے تحت مطلوبہ شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نافذ کیا جاتا ہے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اسے ختم کیا جا سکتا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا کی دائر کردہ درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی ہدایت کے جواب میں رضا ربانی نے 61 صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کروائی۔ قبل ازیں درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ 1947 سے ملک کے قیام کے بعد سے اب تک ڈھائی ہزار سے زائد آرڈیننس نافذ کیے جا چکے ہیں۔

پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ صدر کو آئین کی دفعہ 89 کے تحت آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے جو 2 خصوصی صورتحال میں کی جانے والی عارضی قانون سازی ہوتی ہے اس میں ایک صورت یہ کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس نہ ہو رہا ہو یا حالات اس بات کے متقاضی ہوں کہ فوری طور پر ایکشن لیا جائے۔ رپورٹ میں رضا ربانی نے کہا کہ آرڈیننس ایک عارضی قانون سازی ہے جو صدر اس وقت کر سکتے ہیں جب پارلیمان کے اجلاس نہ ہو رہے ہوں۔ ان کے مطابق آئین کی دفعہ 89 کے تحت صدر کو دیا گیا اختیار پارلیمان کو قانون سازی کے لیے حاصل اختیار سے منسلک ہے، آئین کی دفعہ 89 کی شق 2 کہتی ہے کہ ایک آرڈیننس وہی اثر رکھتا ہے جو پارلیمان کے ایکٹ کا ہوتا ہے اور انہی پابندیوں کے تابع ہو گا جو پارلیمان کی قانون سازی پر عائد ہوتی ہیں۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ 1973ء کے آئین کی دفعہ 89 میں دی گئی تسلی صدر کی تسلی ہے کہ وہ کابینہ کے مشورے پر عمل کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 893921
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش