0
Sunday 25 Oct 2020 22:27
کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے مولانا فضل الرحمان کا خطاب

اسٹیبلشمنٹ دھاندلی کروانے کی معذرت کرے، سرآنکھوں پر بٹھا لیں گے

ہم اداروں کے دشمن نہیں ،اداروں اور ذمہ دران کا احترام کرتے ہیں
اسٹیبلشمنٹ دھاندلی کروانے کی معذرت کرے، سرآنکھوں پر بٹھا لیں گے
اسلام ٹائمز۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم  کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جعلی حکومت کے خلاف تحریک مزید زور پکڑے گی، اسٹیبلشمنٹ جعلی حکومت کی حمایت چھوڑ دے تو اسے آنکھوں پر بٹھائیں گے۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے کوئٹہ میں بھی کامیاب جلسے کی صورت میں سیاسی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا اور جلسے سے اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم اوراین ایف سی ایورڈ میں تبدیلی نہیں ہونےدیں گے، پی ڈی ایم این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصوں میں کوئی کمی تسلیم نہیں کرے گی، کسی نادیدہ قوت کو عوام کے حق پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔  جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ دھاندلی کروانے کی معذرت کرے، سرآنکھوں پر بٹھا لیں گے ،ہم اداروں کے دشمن نہیں ،اداروں اور ذمہ دران کا احترام کرتے ہیں،لیکن جعلی حکومت کی پشت پناہی پرگلہ کرنا ہمارا حق ہے۔

کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دو ججز نے کہا کہ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ صدر مملکت کو مستعفی ہونا چاہیے یا پھر مواخذہ کر کے منصب سے الگ کیا جانا چاہیے، اخلاقی اور قانون جواز تو آپ کے پاس حکومت کرنے کا پہلے بھی نہیں تھا، اب عدالتی فیصلے کے بعد کس بنیاد پر صدر مملکت اور وزیراعظم کرسی پر بیٹھتا ہے؟ پی ڈی ایم کا مئوقف تھا یہ حکمران جعلی ہیں، آج ہمارا مئوقف اور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔ ہم آج بلوچستان کی سرزمین پر گفتگو کررہے ہیں، 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا، تمام جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم 18ویں ترمیم این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کے اختیارات میں تبدیلی نہیں ہونے دیں گے۔ صوبوں کے جزائر پر قبضے کا کوئی حق نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ملک ان کے حوالے مت کرو، ہماری پچھلی حکومت میں آخری بجٹ پیش کیا گیا تو ترقی کا تخمینہ ساڑھے پانچ فیصد اور اگلے سال کا ساڑھے 6فیصد تھا لیکن جب انہوں نے بجٹ پیش کیا تو سالانہ ترقی کا تخمینہ صفر سے بھی نیچے چلا گیا ہے۔ ملکی دفاع ضروری لیکن بقاء کیلئے معیشت کی ترقی ضروری ہے، سویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ آج تم پاکستان کی معیشت تباہ کردی ہے، میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہی واجپائی تھا، یہی معیشت تھی، واجپائی نے مینار پاکستان پر کھڑا ہوکر پاکستان کو تسلیم کیا، افغانستان اور ایران، مشرق وسطیٰ پاکستان کے ساتھ کاروبا کرنا چاہتا تھا۔

مولانا نے مزید کہا کہ آج اسی ہندوستان میں واجپائی کی جماعت کی حکومت ہے، لیکن مودی کا رویہ دشمنی والا ہے، کیونکہ پاکستان معاشی لحاظ سے کنگال ہو گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری پچھلی حکومت نے چین سے رابطہ کیا، چین کی 70سال پاکستان سے دوستی رہی، اس نے پاکستان میں 70ارب ڈالر خرچ کیے تاکہ سڑکیں بنیں، بجلی اور ملکی معیشت مستحکم ہو، ان کی حکومت آئی تو ان کا فلسفہ تھا ہم میگا پراجیکٹ، سی پیک اور صنعتوں، بجلی کے بڑے منصوبے نہیں بنا سکتے، پاکستان ان منصوبوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، لکھ لعنت ہو، آپ کے منصوبے کٹے اور مرغی کا منصوبہ ہے۔ ہم نے چین کو ناراض کر دیا۔ جب خزانے میں کچھ نہیں تھا تو مدد کیلئے سعودی عرب نے تین ارب ڈالر رکھے۔ آج تو افغانستان بھی آپ کی بات نہیں کرتا۔ آج پاکستان کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے، ہماری خارجہ پالیسی کا محور ہمیشہ کشمیر رہا ہے، عمران خان نے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولہ دیا، پھر دعا کی کہ ہندوستان میں مودی کی حکومت آئی ہے، یہ کشمیر فروش ہیں، گلگت بلتستان کی ان کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں، یہ کہتے ہم گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیں گے۔ ایسا کرنے سے کشمیر کا جواز پیدا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے ملک کیلئے ناگزیر ہوتے ہیں، ہم اداروں کے دشمن نہیں ،اداروں اور ان کے ذمہ دران کا احترام کرتے ہیں، لیکن اگر وہ مارشل لاء مسلط کرتے ہیں، یا پھر جعلی حکومت کی پشت پناہی کرتے ہیں توپھر گلہ کرنا ہمارا حق بن جاتا ہے۔ آج بھی ہماری اسٹیبلشمنٹ جعلی حکومت کی پشت پناہی سے دستبردار ہوجائے اور قوم کے سامنے معذرت کرلے ہم نے الیکشن میں غلط کیا تھا، ہم آج بھی ان کو اپنی آنکھوں پر بٹھانے کیلئے تیار ہیں۔
خبر کا کوڈ : 893991
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش