0
Wednesday 28 Oct 2020 17:46
پی ڈی ایم اجلاس میں حکومت کیخلاف دما دم مست قلندر ہو گا

جبری گمشدگی سے متعلق بل بار بار مؤخر ہو رہا ہے، اختر مینگل

جبری گمشدگی سے متعلق بل بار بار مؤخر ہو رہا ہے، اختر مینگل
اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے چیئرمین سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ہم جبری گمشدگی سے متعلق بل لانا چاہتے ہیں لیکن بل بار بار مؤخر ہو رہا ہے۔ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا پی ڈی ایم چھا جائے گی، آج اس ایوان کی کارروائی سے اندازہ ہوا کہ واقعی پی ڈی ایم چھا گئی ہے۔ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ کوئٹہ جلسے سے متعلق یہاں قرارداد لائی گئی، کسی نے جلسے میں اردو کے خلاف بات کی نہ پاکستان توڑنے کی بات کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو زبان کو ترویج دیں مگر باقی زبانوں کو بھی ترویج دیں، آزاد بلوچستان کی بات اس سے منسوب کی گئی جس کے آباؤ اجداد نے پاکستان بنایا۔

اُدھر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سے جاتی امراء رائیونڈ میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ حکومت کا ساتھ اس لیے چھوڑا کیونکہ بلوچستان کا احساس محرومی کم نہیں ہوا اگر کمی آتی تو ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے، اتحادی کچھ بنیاد اور نکات پر بنتے ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ عوام کا مینڈیٹ آج نہیں بلکہ 1971ء کے بعد زیادہ چوری کیا گیا، پنجاب میں پہلے اتنی مداخلت نہیں تھی جتنی بلوچستان میں تھی لیکن اب مداخلت اس انتہا تک پہنچ گئی کہ اپنے دائرہ اختیار سے نکل کر صرف اپنی کالونی بنا رہے ہیں، بلوچستان سے پھیل کر اب پورے ملک تک آ چکے ہیں۔ ہمیں جمہوری کلچر اور جمہوریت کو پروان چڑھانے کے لیے یہ احساس اگر کل ہوتا تو بہتر ہوتا لیکن اگر آج بھی ہوا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے آئندہ اجلاس میں حکومت کے خلاف دما دم مست قلندر کا نقشہ کھنچیں گے، عمران خان کو اقتدار میں لانے والے مطمئن نہیں تو عوام کیسے مطمئن ہوں گے۔ کچھ وعدے اور معاہدے ہوتے ہیں، جب کوئی ایک فریق اپنے ان معاہدات پر عمل نہ کرے اور اپنے وعدوں کا پاس نہ رکھے تو اس سے کیا امید رکھ سکتے ہیں؟ انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسند والوں میں شامل تھے، جب ہم ان سے مطمئن نہیں رہے تو حزب اختلاف میں اپنی جگہ دیگر لوگ کیسے مطمئن رہیں گے۔ ہم پوچھ رہے تھے ہمارے 6 نکات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا ہے، ان میں کون سی ایسی شق ہے جو غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، اگر ایسا جرم ہم نے کیا ہے تو کیا اس پر دستخط کرنے والوں کو مجرم ٹھہرایا نہیں جا سکتا؟ جنہوں نے دستخط کیے ہیں وہ ایوان صدر اور اسپیکر کی کرسی پر نہیں بیٹھے ہوئے ہیں، انہوں نے ہمارے ساتھ جو معاہدے کیے تھے وہ پورے نہیں کر سکے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کیا ہم سمجھیں کہ اس وقت ملک میں حقیقی جمہوریت ہے، حقیقی جمہوریت ہوتی تو ان چینلوں پر پابندی نہ ہوتی، ان کے مالکان پابند سلاسل نہیں ہوتے اور صحافی اغوا ء نہیں ہوتے، صحافیوں کو دھمکی آمیز فون نہیں آتے، اگر یہ جمہوریت ہے تو ایک انوکھی جمہوریت ہے۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں شامل سابق حکمران جماعتوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام جماعتیں ماضی میں اقتدار میں رہی ہیں لیکن آج ہمارے موقف کی حمایت کر رہی ہیں، اس کا مطلب ہے کہ کوئی اور قوت ہے جو لاپتہ افراد کے معاملات میں ملوث ہے کیونکہ اگر یہ ملوث ہوتے تو آج ہمارے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے، جب پی ڈی ایم کا اجلاس ہو گا تو اسکرین کے ذریعے بتائیں گے۔ دما دم مست قلندر کیسے ہو گا۔ انہوں نے نواز شریف کے بیانیے پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو کب سے اس بیانیے پر قائم ہیں بلکہ اس بیانیے کو بنانے والے ہم ہیں۔ پشاور مدرسے میں دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بڑا ہی افسوسناک اور درد ناک واقعہ ہے، اللہ سے دعا ہے کہ شہدا ء کو جنت میں جگہ دے، یہ حکومت کی ناکامی ہے، اگر اس میں بھارت سمیت کوئی بھی ملوث ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 894584
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش