0
Thursday 29 Oct 2020 23:27

پشاور مدرسہ کے واقعے نے آرمی پبلک سکول کے زخم تازہ کر دیئے، مشتاق خان

پشاور مدرسہ کے واقعے نے آرمی پبلک سکول کے زخم تازہ کر دیئے، مشتاق خان
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو مدرسے کے اندر طالبان علوم نبوت کے خون، بکھری ہڈیوں، گوشت کے ٹکڑوں، قرآن پاک کے شہید نسخوں اور شہید کتب احادیث کا حساب دینا ہوگا۔ شرم کی بات ہے کہ وزیراعلیٰ، گورنر اور وزیراعظم میں سے کوئی بھی تعزیت اور دعا کے لیے نہ مدرسے گیا اور نہ ہسپتال جانے کی زحمت کی۔ آئی جی خیبر پختونخوا پولیس کا دھماکے کو چھوٹا موٹا واقعہ قرار دینا شہداء اور زخمیوں کے ورثاء کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ آئی جی پی نے 35 لاکھ طلبہ اور پوری امت مسلمہ کے جذبات کی توہین کی ہے۔ آئی جی پی کو اپنے الفاظ واپس لے کر معافی مانگنی چاہیئے۔ بم دھماکہ ظلم و بربریت اور سفاکی کی بدترین مثال ہے۔ پشاور مدرسہ کے واقعے نے آرمی پبلک سکول کے زخم تازہ کر دیئے۔

انتظامیہ کی جانب سے مدرسہ کو تھریٹ کی اطلاع دینے کے باوجود سکورٹی مہیا نہ کرنے سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ اس ایوان کو بچوں کے والدین اور اساتذہ سے تعزیت کرنی چاہیئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اگر مدرسے کو خطرہ تھا اور سکیورٹی اداروں کو اس کا پتہ بھی تھا تو سکیورٹی فراہم نہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ دہشتگردوں کے سہولت کار ہیں۔ آپ نے دہشتگردوں کو موقع دیا کہ وہ بدترین کارروائی کریں اور پھر آرام سے نکل جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کرتار پور اور دوسرے چھوٹے چھوٹے واقعات کے لئے تو جاتے ہیں لیکن قرآن پاک اور احادیث کی کتابوں، بچوں اور اساتذہ کی شہادت، مدارس اور مساجد میں بم دھماکوں پر کوئی نہیں جاتا، یہ ظلم ہے، میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔

حکومت نے اجیت دوول کی دھمکی کو سنجیدہ نہیں لیا، ان کی دھمکی کے بعد کراچی میں مولانا عادل کو شہید کیا گیا اور اب کوئٹہ کے بعد پشاور میں دھماکے ہوگئے۔ یہ سکیورٹی لیپس کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں اور علماء کو شہید کرنے کے واقعے میں جو بھی ملوث ہیں، وہ تباہ و برباد اور رسوا ہوں گے۔ معصوم بچوں اور مولانا عادل سمیت بے گناہوں کی شہادت کی ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور سکولوں کے بچوں کو شہادت پر بڑے پیکج دیئے گئے، لیکن طالبانِ علوم نبوۃ کے لئے وفاقی خزانے اور بجٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسجدوں، مدرسوں، علماء، طالبانِ علوم نبوۃ کو سکیورٹی دیں اور شہید ہونے والے بچوں کو خصوصی پیکج دیں۔ جن اداروں اور محکموں کی ذمہ داری تھی، ان کا اور خود حکومت کا احتساب ہونا چاہیئے۔ 
خبر کا کوڈ : 894824
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش