1
Friday 30 Oct 2020 00:35
امریکہ سے تعلق خراب نہیں کرنا چاہتے لیکن برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں

​​​​​​​نئے انتخابات کرائے جائیں، ہم نہ مذاکرات کرتے ہیں نہ اسکے حق میں ہیں، مولانا فضل الرحمان

​​​​​​​نئے انتخابات کرائے جائیں، ہم نہ مذاکرات کرتے ہیں نہ اسکے حق میں ہیں، مولانا فضل الرحمان
اسلام ٹائمز۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم نہ مذاکرات کرتے ہیں اور نہ اس کے حق میں ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ نئے انتخابات کرائے جائین، ہمارے جلسے چلتے رہیں گے، سکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر وہ سکیورٹی نہیں فراہم کرسکتی تو ہم اپنی سکیورٹی کا انتظام خود کر لیں گے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے اسٹبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کیخلاف عمران خان جو باتیں کیا کرتے تھے، ہم بھی وہی بات کر رہے ہیں، افواج پاکستان کے جوان اور سکیورٹی ادارے ہمارے لئے انتہائی قابل احترام اور ناگزیر ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ کو چاہیئے کہ وہ آئینی حدود میں رہ کر کام کرے۔ گستاخانہ خاکوں پر امت مسلمہ کو فرانس کا مکمل معاشی بائیکاٹ کرنا چاہیئے۔ پی ڈی ایم میں پھوٹ ڈلوانے کے لئے کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو گرفتار کیا گیا لیکن پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ سازش ناکام بنا دی۔ سندھ پولیس نے اصولی موقف اختیار کر کے پہلی مرتبہ تاریخی کردار ادا کیا۔

30 نومبر کو ملتان میں ہونے والا جلسہ عام تمام ریکارڈ توڑ دے گا۔ اس حوالے سے جمعیت علمائے اسلام جنوبی پنجاب کے تمام ذمہ دارن کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ملک میں کوئی حکومت نہیں، یہ بیساکھیوں پر کھڑی ہے، ہم کمپرومائز کرنے والے لوگ نہیں اور نہ ہی دراڑیں ڈالنے والوں کو کامیاب ہونے دیں گے۔ ملتان کے مدرسہ قاسم العلوم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ چیئرمین سی پیک کو استثنیٰ دے کر سرکاری طور پر قانونی کرپشن کا راستہ بنایا جا رہا ہے، تیس نومبر کو ملتان میں بہت بڑا جلسہ ہونے جا رہا ہے، پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں رابطے میں ہیں۔ عوام نے جلسوں میں حکمرانوں سے بیزاری کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ فرانس میں نبی پاک کے خاکوں پر امت مسلمہ سراپا احتجاج ہے۔ مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم قوتیں شدت پسند ہیں۔ امت مسلمہ سے اپیل ہے کہ فرانس کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سے تعلق خراب نہیں کرنا چاہتے لیکن برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں، امریکہ میں کس کی بھی حکومت آجائے، وہ پالیسیاں نہیں بدلتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے جب عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف بات کیا کرتے تھے، وہ کیا ہے۔؟ ہمارا بیانیہ بھی واضح ہے اور اب پوری قوم کا بیانیہ یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاسی مداخلت بند کر دے، یہ عمل ملک وقوم کے لئے فائدہ مند ہے۔ ریاستی سطح پر مدرسہ میں بم دھماکہ میں بچوں کی شہادت پر ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا۔ اے پی ایس اور مدرسہ میں ہونے والے سانحے ایک جیسے تھے، لیکن ریسپانس مختلف ہے ایسا کیوں ہے۔؟ شہر اولیا میں ہونے والا جلسہ اپنے ریکارڈ توڑے گا۔

فرانس کے صدر کی ایما پر بنائے گئے خاکوں نے پرتشدد کیفیت پیدا کی، مریم نواز کے کمرے میں پولیس گھس گئی، تاکہ پی ڈی ایم اتحاد میں دراڑ پیدا ہو، لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ عمران خان کا تھا۔ ہم جلسے کرتے رہیں گے، تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پالیسی اور لڑائی کا معیار یہ رہ گیا ہے کہ منصوبے کا کتبہ کون لگائے گا، حکومت نے چائنہ جیسے دوست ملک کے منصوبوں کو متاثر کیا، امریکہ میں جو کچھ مرضی ہو، مگر ان کے دباو میں آکر ہمیں پالیسیاں نہیں بنانا چاہیئں۔ فوج کی سیاست میں مداخلت سے معاملات خراب ہوتے ہیں، پشاور میں آرمی پبلک سکول کا واقعہ دہرایا گیا، لیکن شاید مدرسے کے بچوں اور مدرسہ کو وہ ریسپانس نہیں ملا جو ان کا حق ہے، ابھی تک انہیں کسی نے نہیں پوچھا۔
خبر کا کوڈ : 894833
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش