0
Friday 30 Oct 2020 12:47
لاہور میں وحدت امت و شان رسالت (ص) کے عنوان سے عظیم الشان ریلی

توہین رسالت کرکے دشمنان اسلام نے اپنی خباثت آشکار کر دی، علامہ سید جواد نقوی

پیٹرو ڈالر اور خودفروش سیاستدانوں کی مدد سے پورے عالم اسلام میں بدامنی پھیلائی جا رہی ہے
توہین رسالت کرکے دشمنان اسلام نے اپنی خباثت آشکار کر دی، علامہ سید جواد نقوی
اسلام ٹائمز۔ 12 ربیع الاول کی مناسبت سے حوزہ علمیہ جامعہ العروة الوثقیٰ لاہور سے لیکر قینچی سٹاپ والٹن فیروز پور روڈ تک گستاخانہ خاکوں کیخلاف ’’وحدت امت اور شان رسالت‘‘ ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں کسی بھی مسلکی تفریق کے بغیر ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حوزہ علمیہ جامعہ العروة الوثقیٰ اور تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کا کہنا تھا کہ دشمنان اسلام کے پلید ہاتھوں نے ایک بار پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرکے اپنی گہری دشمنی کو آشکار کر دیا ہے اور اس جنون آمیز اور نفرت انگیز اقدام کے ذریعے موجودہ دنیا میں اسلام اور قرآن کی روز افزوں تابندگی اور فروغ کی وجہ سے خبیث صہیونی حلقوں کے غیظ و غضب کو عیاں کر دیا ہے۔ اس جرم اور اس عظیم گناہ کے عاملین اور اس میں ملوث عناصر کی روسیاہی کیلئے یہی کافی ہے کہ انھوں نے دنیا کے مقدسات میں سے مقدس ترین اور نورانی ترین چہرے کو نفرت انگیز ہرزہ سرائیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ مقدسات کی توہین و تحقیر، دنیائے اسلام بالخصوص مشرق وسطیٰ میں دینی تشخص کی پامالی، مسلمانوں کے درمیان اختلاف و تفرقہ ڈالنا، فیصلہ کرنے کے اہم اور حساس مراکز میں دراندازی اور مسائل کے راہ حل کے عنوان سے امریکا کے سامنے جھک جانے کی تلقین، دشمنان اسلام کے اہم ترین حربے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی معاشروں میں فرقہ واریت کے تباہ کن اثرات اور نتائج مرتب ہوئے ہیں، مسلمانوں کے درمیان اختلاف و تفرقے کا ایک نتیجہ اسلامی بیداری سے انحراف ہے، آج تسلط پسند نظام کے نئے منظر نامے میں اسلامی بیداری کی تحریک کو جس چیز سے سب سے بڑا خطرہ ہے، ان میں قرآن کریم اور احادیث پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلط تفسیر و تشریح، رحمت و حکمت کے دین کو بے رحم، دہشتگرد اور شدت پسند دین بنا کر پیش کرنا، حالیہ برسوں میں تکفیری گروہوں کا پروان چڑھایا جانا اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف و نفرت کا بیج بونا شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سازش اس وقت مغرب اور صیہونزم کی جاسوسی تنظیموں کی جانب سے پیٹرو ڈالر اور خودفروش سیاستدانوں کی مدد سے پورے عالم اسلام میں پوری سنجیدگی اور زور و شور سے جاری ہے۔ راہ حل کے طور پر ان کا کہنا تھا کہ اس بیچ اس ہلاکت خیز فتنے میں جو چیز ضروری ہے، وہ بصیرت، غور و فکر، تدبر و تفکر اور گہرا تجزیہ ہے، تاکہ اختلاف و تفرقے اور دشمنان اسلام کی عیاری و مکاری سے بچتے ہوئے مسلمانوں کی صفوں میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں ناکام بنائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی فرقوں کے مابین قرآنی وحدت، ایک نئی اسلامی تہذیب کی تشکیل کا پہلا زینہ ہے، اسی وجہ سے علمائے کرام پر ضروری ہے کہ وہ مسلم اقوام کے اس معالجے کے بارے میں امت کے شعور میں اضافہ کریں اور وحدت کو اسلام ناب محمدی کے ایک ناقابل تردید اصول کے طور پر قبول کریں، کیونکہ نئی اسلامی تہذیب کے حصول کا انحصار امت کے اتحاد و اتفاق پر ہے۔

علامہ سید جواد نقوی نے اسلامی بیداری کی تحریک کی تقویت کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی بیداری کے سامنے دشمنوں کی یہ ناکام حرکتیں، اس تحریک کی عظمت و اہمیت کی علامت اور اس کے روز افزوں فروغ اور ہمہ گیری کی نوید ہیں۔ اس وقت عالم اسلام کے پاس اپنی قوموں کے مفادات کے تحفظ کیلئے واحد راستہ اسلام کے محور پر اتحاد قائم کرنا اور دشمنوں اور مستکبرین کے سامراجی اہداف کا انکار ہے۔ یہ عظیم مجموعہ جس کا نام امت مسلمہ ہے، اپنے وجود اور اپنے حقوق کے دفاع کے تمام وسائل سے بہرہ ور ہے، عالم اسلام کو آج اپنے عزت وقار کے لئے قدم بڑھانا چاہیئے، اپنی خود مختاری کیلئے مجاہدت کرنا چاہیئے، اپنے علمی ارتقاء اور روحانی طاقت و توانائی یعنی دین سے تمسک، اللہ کی ذات پر توکل اور نصرت پروردگار پر یقین رکھنا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 894890
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش