?> فرانس کو "آزادی اظہار رائے" کا دم بھرنیکا کوئی حق حاصل نہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل - اسلام ٹائمز
1
Sunday 15 Nov 2020 20:39
فرانس کیجانب سے توہین آمیز خاکوں کی کھلی حمایت

فرانس کو "آزادی اظہار رائے" کا دم بھرنیکا کوئی حق حاصل نہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل

فرانس آزادیٔ اظہار رائے کے حوالے سے شرمناک منافقانہ رویے پر کاربند ہے
فرانس کو "آزادی اظہار رائے" کا دم بھرنیکا کوئی حق حاصل نہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل
اسلام ٹائمز۔ برطانیہ میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ ماہ فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے حوالے سے جاری ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں تاکید کی ہے کہ فرانس اپنے دعوے کے برعکس؛ "آزادی اظہار رائے" کا حامی نہیں۔ مصری ای مجلے "مصری الیوم" کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ توہین آمیز خاکوں کی نمائش کے بعد فرانسیسی استاد کا مارا جانا اور "آزادیٔ اظہار رائے" کے حوالے سے مچنے والا شور شرابا بالآخر امانوئل میکرون کی جانب سے آزادی اظہار رائے کی حمایت کا سبب بنا جبکہ فرانسیسی حکومت فرانسیسی مسلمانوں کو بدنام کرنے اور ان پر دباؤ بڑھانے کے لئے اپنی کمپین کو تاحال جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقوعے کے بعد فرانسیسی پولیس کی جانب سے 4 بچوں کو بھی کئی گھنٹوں کے لئے تفتیش میں شامل رکھا گیا جن کی عمریں 10 سال سے بھی کم تھیں؛ صرف اس لئے کہ انہوں نے اپنی کلاس کے دوران کہہ دیا تھا کہ توہین آمیز خاکوں کی نمائش پر مبنی استاد کا وہ اقدام "غلط" تھا!

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ فرانسیسی عدالت نے
سال 2019ء میں 2 افراد کو صرف اس لئے "توہین و ہتک" کا مجرم قرار دے کر سزا کا نشانہ بنا دیا تھا کہ انہوں نے ایک پرامن ریلی کے دوران امانوئل میکرون کا پتلہ نذر آتش کیا تھا اور مزید برآں یہ کہ سوشل میڈیا پر (فرانسیسی) حکام کی تصاویر کی توہین کو غیرقانونی قرار دینے کے لئے اس وقت امانوئل میکرون کی جانب سے پارلیمنٹ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سے فرانسیسی حکمرانوں کے ایسے رویے اور دوسری طرف ان کی جانب سے حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کی "آزادی اظہار رائے" کے بہانے سے کی جانے والی حمایت "سمجھ سے بالاتر" ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے انسانی حقوق کے حوالے سے فرانسیسی حکومت کے تشویشناک رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ علاوہ ازیں (فرانس کے اندر) سیکولرازم کے نام پر مسلمانوں کو تعلیمی اداروں یا کام کی جگہوں پر "اپنا دینی لباس" پہننے کی اجازت تک نہیں دی جاتی!

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق فرانس میں پبلک سیکٹر کے اہلکاروں کی توہین کے حوالے سے ہزاروں افراد کو سزا دی جاتی ہے جبکہ یہ اقدام ایک مبہم "کریمینل سزا" ہے جس کے تمام پہلو تاحال
مشخص نہیں ہوئے اور فرانسیسی حکام اس قانون کی آڑ لیتے ہوئے اپنے بے شمار پر امن مخالفین کی زبانیں بھی بند کروا دیتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اسی طرح جاری سال کے ماہ جون میں یورپ کی ایک انسانی حقوق کی عدالت نے فرانس کے اندر "اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے" پر 11 افراد کو سزا ملنے کی خبر دیتے ہوئے اس اقدام کو ان کے "آزادیٔ اظہار رائے" کے حق کے خلاف قرار دیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فرانسیسی استاد کے قتل کے کچھ دنوں کے بعد فرانس نے "انتہاء پسندی" اور "قومی سلامتی کے خطرے" کے شبہے میں نہ صرف 231 غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کر دیا تھا بلکہ الجزائر، مغرب، روس اور تیونس کی جانب 16 ڈی پورٹ آپریشنز بھی انجام دیئے تھے درحالیکہ "قومی سلامتی کے خلاف اقدام کرنے" کا الزام سہنے والوں سمیت ان افراد کی اکثریت کو شکنجوں میں بھی جکڑا گیا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ کے آخر میں تاکید کی ہے کہ "آزادیٔ اظہار رائے" کی حمایت پر مبنی فرانسیسی حکومت کے بیانات اس حوالے سے اس کے "شرمناک منافقانہ رویے" کو چھپا نہیں سکتے
کیونکہ "آزادی" صرف تب ہی وقوع پذیر ہو سکتی ہے جب وہ "تمام فریقوں" کو برابر میسر ہو جبکہ کسی بھی حکومت کو "آزادیٔ اظہار رائے" کے بہانے سے "شکنجوں میں جکڑا جانا" جیسے "عوام کو خطرے سے دوچار کرنے والے اقدامات" پر پردہ نہیں ڈالنا چاہئے۔

دوسری طرف فرانسیسی صدر کی جانب سے "غیر معمولی حالات کے تسلسل" اور "انتہاء پسندی سے مقابلے" جیسے بہانوں کے ذریعے نہ صرف کئی ایک مساجد کو بند کر دیا گیا ہے بلکہ فرانس کے اندر مسلمانوں کے متعدد اجتماعات پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے جبکہ "انتہاء پسندی" ایک ایسی اصطلاح ہے جو تقریبا ہر متدین مسلمان پر لاگو کر دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے فرانسیسی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم "فرانس میں اسلام-فوبیا کا مخالف اجتماع" (Collective against Islamophobia in France-CCIF) کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کرنا چاہتے ہیں درحالیکہ یہ تنظیم فرانس کے اندر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتے جانے کا مقابلہ کر رہی ہے۔ مزید برآں فرانسیسی وزیر داخلہ نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعوی بھی کر دیا ہے اس تنظیم کے اجتماعات "جمہوریت دشمن" اور "دہشتگردی کا زمینہ فراہم کرنے والے" ہیں۔
خبر کا کوڈ : 898028
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش