0
Thursday 19 Nov 2020 17:01

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کیلئے پی ٹی آئی کی پوزیشن مستحکم، 4 آزاد اراکین شامل

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کیلئے پی ٹی آئی کی پوزیشن مستحکم، 4 آزاد اراکین شامل
اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان میں حکومت سازی کیلئے تحریک انصاف کی پوزیشن مستحکم ہوگئی، چار آزاد نومنتخب ممبران پارٹی میں شامل ہوگئے۔ جمعرات کے روز گلگت میں بلتستان سے تعلق رکھنے والے تین اور نگر سے ایک آزاد رکن نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی۔ بلتستان کے ضلع کھرمنگ سے منتخب ہونے والے آزاد امیدوار وزیر سلیم نے پی ٹی آئی مین شمولیت اختیار کر لی، وزیر سلیم الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی ٹکٹ کے امیدوار تھے لیکن پارٹی نے ان کی جگہ سپیکر فدا محمد ناشاد کو پارٹی میں شامل ہونے سے پہلے ہی ٹکٹ دیدیا، جس کے بعد وزیر سلیم نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔

جمعرات کے روز گورنر ہائوس گلگت میں پی ٹی آئی کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی، وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور اور ارشد داد نے وزیر سلیم کو پارٹی مفلر پہنایا۔ ادھر گانچھے کے دو نومنتخب ارکان اسمبلی عبدالحمید اور مشتاق حسین بھی پی ٹی آئی کو پیارے ہوگئے، یہ دونوں بھی آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ کر کامیاب ہوئے تھے۔ ادھر سکردو چار روندو سے نومنتخب آزاد رکن اسمبلی راجہ ناصر علی خان بھی پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔ ناصر علی خان بھی پی ٹی آئی ٹکٹ کے امیدوار تھے لیکن پارٹی نے ان کی جگہ سابقہ پی پی کے رکن اسمبلی وزیر حسن کو ٹکٹ دیا تھا، جس کے بعد راجہ ناصر علی خان نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور وزیر حسن کو ہرانے میں کامیاب ہوئے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین جمعرات کے روز نگر جا کر ایک اور نومنتخب آزاد رکن اسمبلی کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

نگر حلقہ پانچ میں نومنتخب رکن اسمبلی جاوید منوا جو پہلے پی ٹی آئی ضلع نگر کے صدر بھی تھے اور ٹکٹ کے امیدوار تھے، تاہم مجلس وحدت مسلمین کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں پارٹی قیادت نے جاوید منوا کا حلقہ وحدت مسلمین کو دینے کا فیصلہ کیا۔ جاوید منوا نے پارٹی فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ جمعرات کے روز پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین سیف اللہ نیازی، علی امین گنڈاپور اور ارشد داد نگر پہنچے جہاں انہوں نے جاوید منوا سے معافی بھی مانگی۔ اس طرح گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے منتخب ممبران کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ الیکشن میں کسی بھی پارٹی کو حکومت سازی کیلئے سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ حکومت سازی کیلئے اب تمام تر انحصار آزاد اراکین پر ہے۔ اس سے پہلے 2009ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی نے 12 نشستیں جیتی تھیں۔ پھر ایم کیو ایم، قاف لیگ اور جے یو آئی کو ساتھ ملا کر حکومت بنائی گئی تھی۔ 2015ء کے الیکشن میں نون لیگ نے 16 سیٹیں حاصل کیں اور تنہا حکومت بنائی تھی۔

2020ء کے عام انتخابات کے ابھی تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو 8، پی پی کو 3، نون لیگ کو 2، جے یو آئی اور مجلس وحدت مسلمین کو ایک ایک نشتیں حاصل ہوئیں جبکہ 7 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ گلگت حلقہ دو میں الیکشن کی رات سامنے آنے والے نتائج میں پیپلزپارٹی کے جمیل احمد کامیاب ہوئے تھے، اگلی صبح تحریک انصاف کے فتح اللہ خان کو صرف دو ووٹوں سے کامیاب قرار دیا گیا، جس کے بعد پیپلزپارٹی نے ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا دیا۔ پی پی کی درخواست پر حلقہ میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی گئی لیکن اڑتالیس گھنٹے گزرنے کے بائوجود بھی گنتی پوری نہ ہوسکی اور ابھی تک فائنل رزلٹ سامنے نہیں آیا۔ ادھر دیامر میں بھی ایک حلقہ کا رزلٹ روک دیا گیا ہے۔ داریل کے ایک پولنگ سٹیشن پر خواتین کے ووٹ کاسٹ نہ ہونے پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حلقے میں جے یو آئی کے امیدوار رحمت خالق کامیاب ہوئے تھے اور انہیں پی ٹی آئی کے حیدر خان پر 74 ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔
خبر کا کوڈ : 898773
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش