0
Thursday 19 Nov 2020 21:18

قبائلی ضلع خیبر میں غیرت کے نام پر لڑکا لڑکی قتل، بغیر جنازوں کے تدفین

قبائلی ضلع خیبر میں غیرت کے نام پر لڑکا لڑکی قتل، بغیر جنازوں کے تدفین
اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ضم شدہ ضلع خیبر کے علاقے کرن خیل میں کچھ عرصہ قبل مصدقہ ذرائع کے مطابق ایک لڑکی اور لڑکے کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا ہے اور قتل کرنے کے بعد معاشرے میں بدنامی کے خوف سے لڑکی کے اہل خانہ نے جنازہ پڑھائے بغیر ہی ان کی تدفین کی ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ قبائلی اضلاع میں غیرت کے نام پر اس طرح خواتین کے قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم قبائلی روایات اور معاشرے میں بدنامی کے خوف سے ایسے واقعات رپورٹ ہونا تو دور کی بات ایسے مقتولین کا جنازہ بھی نہیں پڑھایا جاتا جس کی وجہ سے یہ واقعات میڈیا اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظمیوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ تنظیم برائے انسانی حقوق پاکستان کے معلومات کے مطابق سال 2019ء صوبہ خیبر پختونخوا میں غیرت کے نام پر قتل کے 95 واقعات درج ہوئے، تاہم تنظیم کے پاس ضم شدہ قبائلی اضلاع یعنی سابقہ فاٹا میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ میڈیا رپورٹس اور مقامی ذرائع کے مطابق امسال صرف ضلع خیبر میں غیرت کے نام پر 11 قتل ہوئے ہیں، لیکن اصل واقعات اس سے کہیں زیادہ ہیں جو رپورٹ نہیں ہوسکے۔
خبر کا کوڈ : 898792
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش