0
Thursday 19 Nov 2020 19:02

خرم دستگیر کو ان کے والد نے پڑھنے کے لیے باہر بھیجا تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، شہباز گل

خرم دستگیر کو ان کے والد نے پڑھنے کے لیے باہر بھیجا تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، شہباز گل
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر پر سرکاری زمینوں پر قبضے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دستگیر پیٹرولیم پر دو کینال اراضی ایسی ہے جو کاغذات میں ایسے وقت شامل کی گئی جس کا ریکارڈ موجود نہیں ہے جبکہ انہوں نے میری پریس کانفرنس کا جواب بھی نہیں دیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے گجرانوالا میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سرکار کی ایک عمارت الحمید بلڈنگ ہے جو بہت مہنگی جگہ پر ہے اور اس کی کئی دکانوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور ان کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں ان لوگوں کے نام ہیں جن کا نیٹ ورک گلیوں اور محلوں تک پھیلا ہوا ہے اور عوام کا خون چوستے ہیں۔
 
شہباز گل نے کہا کہ خرم دستگیر کو ان کے والد نے پڑھنے کے لیے باہر بھیجا تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ واپس آکر گلوبٹ کی طرح چوریاں کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری پچھلی پریس کانفرنس کا بھی جواب نہیں دیا، خرم دستگیر اور ان کے والد سیاست میں ہیں اور ان سے ہمارا ذاتی کوئی مسئلہ نہیں ہے، ان کے والد بزرگ ہیں جن کا ہم احترام کرتے ہیں۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ دوسروں کی عورتوں اور بزرگوں کی ہمیشہ عزت کرنی ہے، ہم ان کی سیاسی سطح پر ان کا احترام کرتے ہیں لیکن جہاں پر عوام کو نقصان پہنچایا ہے اس پر بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستگیر پیٹرولیم پر دو کینال اراضی ایسی تھی جو کاغذات میں ایسے وقت پر شامل کی گئی جس کا ریکارڈ موجود نہیں ہے اور وہ چھڑوائی گئی جبکہ ان کے خلاف ایف آئی آر بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہاں باغ فرحت بن چکا ہے جس کو پکڑا گیا ہے جبکہ انہوں نے عدالت سے خان پلازا کو ڈی سیل کرنے کا حکم لایا ہے، ہم ہر عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن عدالتیں مان چکی ہیں کہ مافیاز اور قانونی سقم موجود ہیں، جس کی ذمہ داری سابق سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان قانونی سقم کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ اسی طرح کے قانون کے باعث سیل اور ڈی سیل کا سہارا لیا جاتا ہے۔ شہباز گل کا کہنا تھا کہ پلازا سے انہیں کروڑوں کا سرمایہ آتا ہے، جس کی آدھی زمین ان کی اپنی ہوگی لیکن باقی زمین سرکار کی ہے، نواز شریف نے جس کو گجرانوالا کا بادشاہ بنایا ہوا ہے اسی نے زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خان پلازا کی آدھی زمین پر بادی النظر میں قبضہ ہے جس کا ریکارڈ پنجاب فرانزک لیب میں چلا گیا ہے، وہاں سے جیسے ہی رپورٹ ملتی ہے ہم دوبارہ عدالتوں میں جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ رنجیت سنگھ کی مختلف شہروں میں حویلیاں تھیں اور شریف خاندان خود کو ان کا وارث سمجھتا ہے کیونکہ پنجاب میں رنجیت سنگھ سے حکمرانی کا وقت انہیں کو ملا ہے، رنجیت سنگھ کی جتنی زمینیں تھیں اس پر یا تو انہوں نے خود قبضہ کیا ہے یا پھر ان کے حواریوں نے کیا ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ رنجیت سنگھ کی حویلی کی زمین کروڑوں مالیت کی ہے اور اس کے چند کینال پر انہوں نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں 50 دکانیں غیر قانونی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ چیزوں پر ان کا براہ راست قبضہ ہے اور کچھ چیزوں پر ان کے رشتہ داروں کے علاوہ رکن صوبائی اسمبلی اور کونسلر کے امیدواروں کا قبضہ ہے کیونکہ انہوں نے اپنا خرچہ بھی پورا کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان امیدواروں کو ڈیڑھ سو اور 400 میں کرایے پر زمینیں دی جاتی ہیں جو آگے ڈیڑھ سے 2 لاکھ کرایے پر دیتے ہیں، اسی طرح یہاں کے سابق میئر پر بھی ایف آئی آر درج ہے۔

شہباز گل نے کہا کہ گلستان سنیما بھی خرم دستگیر کی جائیداد ہے، جہاں ایک مرلہ زمین ایک کروڑ روپے کی ہے، 30 مرلہ جو ڈیڑھ سے پونے دو کینال زمین بنتی ہے وہ خالی کرالی گئی ہے۔ خرم دستگیر پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ ان کے ایک حواری کو سامنے لے کر آئیں گے، یہ کہتے ہیں کہ ہماری فہرستیں بنارہے ہو ہم دیکھ لیں گے لیکن ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو ابھی دیکھیں گے، ہم اگر بزدل ہوتے تو اس نظام پر سوراخ کر کے یہاں کھڑے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان لوگوں کی باری ہے جنہوں نے زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے، یہ کسی ایک پارٹی نہیں بلکہ پیپلزپارٹی ہوں یا دیگر جماعتیں ہوں کسی کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا یہاں تک اگر ایسا بندہ ہماری پارٹی کا بیج لگا کر بیٹھا ہوگا تو اس کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔

شہباز گل نے کہا کہ 99 فیصد صحافی ٹھیک ہوتے ہیں لیکن چند صحافی اور اینکر کسی بزنس تائیکون سے تنخواہ لے رہے ہوتے ہیں اور ایسے چند صحافیوں نے آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن کی ہے جو مسلم لیگ (ن) کے باقاعدہ رکن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں انہوں نے پٹیشن کی ہے کہ نواز شریف کی تقریریں نشر کی جائیں، جس پر جج نے پوچھا کہ آپ چاہتے ہیں کہ عدالت ایک مفرور کو ریلیف دیں تو پھر باقی مفروروں کو کیوں نہ دیں۔ صحافیوں کی پٹیشن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کی لیبر یونین اور اسٹوڈنٹ تنظیمیں ہوتی ہیں لیکن آج پہلی مرتبہ کسی جماعت کی صحافی ونگ بھی سامنے آئی ہے اور مسلم لیگ (ن) کی صحافی ونگ نے عدالت میں پٹیشن کی۔

انہوں نے کہا کہ میں جج کو سلام کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ آپ پر اس قوم کا بہت شکریہ ہے، اگر مریم نواز کو خاتون ہونے کی وجہ سے چھوڑنا ہے تو جیلوں میں موجود دیگر خواتین کا کیا قصور ہے۔ شہباز گل نے کہا کہ عورت کو کوئی چھوٹ دینی ہے تو سب کو برابر دیں اور یہ مطالبہ اپنی حکومت سے بھی کر رہا ہوں، عدالتوں اور پورے نظام سے بھی کر رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی ونگ کے صحافیوں سے گزارش ہے کہ اگر رٹ پٹیشن کرنی ہے تو پھر اخلاقی جرات کریں اور تمام مفروروں کو یہ کام کرنے دینے کے لیے رٹ پٹیشن کریں۔
خبر کا کوڈ : 898798
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش