0
Thursday 19 Nov 2020 21:29

پی ڈی ایم ہر وہ آپشن استعمال کریگی جو عمران کی حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے ضروری ہے، بلاول بھٹو

پی ڈی ایم ہر وہ آپشن استعمال کریگی جو عمران کی حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے ضروری ہے، بلاول بھٹو
اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی حکومت صرف تین مہینے کی مہمان ہے اور جنوری میں اس حکومت کو گھر بھیج دیں گے۔ انہوں نے جی بی کے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ وہ تین نسلوں سے پیپلزپارٹی کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی بی کے عوام نے اپوزیشن کی جماعتوں کو تحریک انصاف کی نسبت بہت زیادہ ووٹ دے کر عمران خان کی جعلی حکومت پر عدم اعتماد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تانگیر میں خواتین کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا گیا اور ساری دنیا بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے اس بات کو جانتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تانگیر کی سات ہزار خواتین کو ووٹ کا حق دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قانون یہ کہتا ہے کہ خواتین کے ووٹ انتخابات میں ضروری ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے جیالوں نے انتخابات میں دوبارہ گنتی کروانے کے لئے بھرپور جدوجہد کی اور جلد ہی آپ یہ خوشخبری سنیں گے کہ پاکستان پیپلزپارٹی مزید نشستوں پر کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ GB-21 میں بھی جہاں بیلٹ باکس چوری ہوئے تھے دوبارہ پولنگ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جی بی میں جس نشست پر انتخاب نہیں ہوا تھا وہ GB-3 تھا وہاں انتخابات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس حلقہ انتخاب میں بھی پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیں۔ انہوں نے چیف الیکشن سے سوال کیا کہ آخر انتخابات کے نتائج کے اعلان میں دیر کیوں ہو رہی ہے؟ ثابت ہو گیا ہے کہ الیکشن کمشنر حکومت کے طرفدار ہیں اور اب وہ جی بی میں اپنا کام چھوڑ کر پی ٹی آئی کی حکومت بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس چیف الیکشن کمشنر نے اسلام آباد میں اپوزیشن کے خلاف پریس کانفرنس کی اور مطالبہ کیا کہ وہ بتائیں کہ یہ پریس کانفرنس کس کے کہنے پر کی تھی؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک صحافی نے چیف الیکشن کمشنر کی ایک تصویر گورنر اور پی ٹی آئی کے امین گنڈاپور کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سے اس تصویر کی وضاحت مانگی جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے نہ صرف یہ کہ جی بی کے عوام کو بیچ دیا ہے بلکہ جی بی کی دھرتی کو بھی بیچ دیا ہے۔ ایچ آر سی پی اور فافن رپورٹیں صاف بتاتی ہیں کہ جی بی انتخابات میں الیکشن قوانین کی خلاف ورزیاں اور بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ فافن کی رپورٹ کہتی ہے کہ ہر پولنگ اسٹیشن پر دھاندلی اور بے قاعدگیوں کے تین تین واقعات ہوئے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے جی بی کے عوام کو سلام پیش کیا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کو جی بی حکومت بنانے پر مشکل میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے آزاد امیدواروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی کامیابی کا سودا وفاقی حکومت سے نہ کریں جو کہ جنوری میں ختم ہونے والی ہے۔ دو یا تین مہینے کے لئے وزارت نہ قبول کریں۔ انہوں نے جیتنے والے آزاد امیدواروں سے کہا کہ وہ جی بی کے عوام کے حقوق کا تحفظ کریں اور وفاقی حکومت سے دھوکہ نہ کھائیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ہر آزاد امیدوار سے وزیراعلیٰ بنانے کا وعدہ کر رہی ہے۔ یہ نمائندے بیوقوف نہ بنیں کیونکہ پی ٹی آئی ان سب کو دھوکہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اسی لئے اب تک اپنے وزیراعلیٰ کے امیدوار کی نامزدگی نہیں کی جبکہ پیپلزپارٹی نے اپنے امیدوار کا اعلان کر دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کی حکومت نے سب سے پہلے کورونا کے خلاف اچھے اقدامات کئے تھے لیکن عمران خان نے ان اقدامات کو متنازعہ بنا دیا تھا۔ ہم نے عمران خان کو اس لئے گھر بھیجنا ہے کہ وہ کشمیر کاز سے لے کر کورونا تک تمام معاملات میں ناکام ہو چکا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت میں اہلیت ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پشاور کے جلسے میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اسٹیج سے سب کو جی بی میں ہونے والی دھاندلیوں سے آگاہ کریں گے۔ ہم وہاں لوگوں کو یہ بتائیں گے کہ "ووٹ پر ڈاکہ نا منظور" کا نعرہ جی بی میں اٹھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا ایک پروگرام ہے جس کے تحت پہلے جلسے ہوں گے، پھر لانگ مارچ ہوگا، پارلیمنٹ کے ذریعے دباﺅ ڈالا جائے گا اور استعفوں کا آپشن بھی موجود ہے اور پی ڈی ایم ان میں سے ہر وہ آپشن استعمال کرے گی جو عمران کی حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے ضروری ہے۔
خبر کا کوڈ : 898826
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش