1
Sunday 22 Nov 2020 19:15

شام میں ہماری مشاورتی موجودگی میں خلل انداز ہونیوالے کسی بھی فریق کو دندان شکن جواب دیا جائیگا، ایران

شام میں ہماری مشاورتی موجودگی میں خلل انداز ہونیوالے کسی بھی فریق کو دندان شکن جواب دیا جائیگا، ایران
اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ویڈیو لنک پر خبرنگاروں کے ساتھ خارجہ سیاست کے حوالے سے منعقد ہونے والی ہفتہ وار میٹنگ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی عنان سنبھالنے والے کسی بھی شخص کے پاس "ایرانی قومی حقوق کے احترام" کے علاوہ کوئی دوسرا رَستہ موجود نہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جوبائیڈن کی جانب سے وائٹ ہاؤس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ایرانی جوہری معاہدے میں امریکی واپسی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک نئی امریکی حکومت تعینات نہیں ہو جاتی اس حوالے سے ہم کوئی اظہارِ خیال نہیں کریں گے۔ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ہمارے لئے امریکہ کا سلوک اہم ہے، اس کے بیانات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم رونما ہونے والی تمام تبدیلیوں کا پوری ہوشیاری کے ساتھ جائزہ لے رہے ہیں جبکہ (وزیر خارجہ) جناب محمد جواد ظریف اس حوالے سے اپنے آخری انٹرویو میں اظہار خیال بھی کر چکے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بعض عرب ممالک کی جانب سے غاصب و بچوں کی قاتل صیہونی رژیم کے ساتھ حال ہی میں استوار کئے جانے والے دوستانہ تعلقات کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے مقبوضہ علاقوں کا دورہ ایک تلخ موضوع ہے اور اگر بعض عرب حکمرانوں کی طرف سے خیانت نہ کی جاتی تو امریکی وزیر خارجہ اس قدر بے شرمانہ طریقے سے مقبوضہ علاقوں کا دورہ کر کے اقوام متحدہ کی منظورہ شدہ تمام قراردادوں کو پائمال کرتا اور نہ ہی انسانیت کے خلاف اسرائیل کے گھناؤنے اقدامات کو جائز قرار دیتا۔ سعید خطیب زادہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ بعض عرب حکمرانوں کی خیانت اور وائٹ ہاؤس میں تعینات حالیہ رژیم کی انتہائی بے شرمی؛ دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جبکہ امریکہ کو یہ موقع فراہم کرنے والے تمام فریقوں کو اس شرمناک واقعے پر جوابدہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران (امریکی وزیر خارجہ) پمپیو کے بیانات کے ساتھ ساتھ اس کے دورے کی بھی شدید مذمت کرتا ہے جبکہ یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ فلسطینی امنگیں مقدس ہیں اور پورے عالم اسلام کو ان امنگوں کی پابندی کرنا چاہئے۔

ایرانی وززارت خارجہ کے ترجمان نے عراق و شام کے ساتھ مختلف میدانوں میں جاری ایران کے وسیع تعاون کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شام و عراق کے ساتھ مختلف شعبوں میں جاری ایرانی تعاون کو سنجیدگی کے ساتھ فالواپ کیا جا رہا ہے، کہا کہ اس تعاون کا ایک حصہ معاشی انفراسٹرکچر اور ایک سکیورٹی کے مسائل اور سیاسی تعاون کے ساتھ مربوط ہے۔ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ اس حوالے سے بنائی جانے والی مختلف کمیٹیاں سنجیدگی کے ساتھ تمام شعبوں کی نگرانی کر رہی ہیں۔ انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ شامی تعمیر نو کا عمل جتنا تیز ہو گا، شامی عوام کو اسی قدر جلد سکون و استحکام میسر آئے گا اور ان کے دردوں کا بھی اسی قدر جلد مداوا ہو گا۔ سعید خطیب زادہ نے اپنی گفتگو میں تاکید کرتے ہوئے کہا کہ شام کے اندر ایران کی موجودگی "مشاورتی" ہے اور اگر کسی فریق نے شام کے اندر ایران کی مشاورتی موجودگی میں خلل اندازی کی کوشش کی تو اس کو ویسا ہی دندان شکن جواب دیا جائے گا جیسا کہ بعض فریق ماضی میں حاصل کر کے اپنی بلوں میں گھس گئے تھے۔
خبر کا کوڈ : 899344
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش