0
Monday 23 Nov 2020 21:14

انور علی اخونزادہ کی شہادت بہت بڑا سانحہ تھی، جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا، علامہ ساجد نقوی

انور علی اخونزادہ کی شہادت بہت بڑا سانحہ تھی، جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا، علامہ ساجد نقوی
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے تحریک جعفریہ کے سابق مرکزی سیکرٹری جنرل انور علی اخونزادہ کی 20ویں برسی کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ انور علی اخونزادہ کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھی، جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے معتدل مزاج، مخلص اور محب وطن رہنماء کا خون ناحق ارباب اقتدار کی گردنوں پر قرض ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ مکتب تشیع کی پوری تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے اور ارض پاک کی داخلی سلامتی اور وحدت کی خاطر بھی خاص طور پر کئی دہائیوں سے جانوں کے نذرانے پیش کئے گئے لہذا ان شہداء کے محبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وطن عزیز کی وحدت و استحکام کے لئے ملک میں محروم و مظلوم طبقات کو درپیش مسائل کے حل، انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے اور معاشرتی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کریں۔

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھاکہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑے بحران یعنی انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے مکمل عزم اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں چاہے اس راستے میں شہادت ہی کیوں نہ ہماری منزل قرار پائے۔ انہوں نے انور علی اخونزادہ کی قومی و ملی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کے لئے خصوصی دعا کی اور کہا کہ دور حاضر میں اسلامیان پاکستان کو اتحاد و وحدت کی جس قدر ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی لہذا ہمیں باہمی اتحاد اور داخلی وحدت کو قائم رکھنے کے لئے اہم اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ ملک کی موجودہ داخلی صورت حال انتہائی گھمبیر اور تشویشناک ہے۔
خبر کا کوڈ : 899526
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش