1
Thursday 26 Nov 2020 09:03

امریکی فورسز شامی تیل و قومی دولت لوٹنے میں مصروف ہیں، مجید تخت روانچی

امریکی فورسز شامی تیل و قومی دولت لوٹنے میں مصروف ہیں، مجید تخت روانچی
اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے مجید تخت روانچی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض ممالک کی جانب سے شامی عوام پر لاگو کی جانے والی یکطرفہ پابندیاں؛ شامی پناہ گزینوں کو وطن واپس لانے کی بین الاقوامی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ اور شامی بحران کو طول دینے کی غرض سے سیاسی عمل میں ڈالا گیا سب سے بڑا رخنہ ہیں جبکہ یہ اقدام غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ مجید تخت روانچی نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب شامی عوام دہشتگردی کے خلاف جنگ اور پھیلتے کرونا وائرس کے باعث شدید ترین دباؤ کا شکار ہیں، ان پر عائد کی جانے والی مذموم و یکطرفہ امریکی پابندیاں شامی عوام کے رنج و الم میں اضافے کا سبب ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے شامی بحران کے حل کے لئے اٹھائے گئے اقوام متحدہ کے اقدامات اور اس بحران کے سیاسی حل کے لئے کی جانے والی ایرانی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سیاسی عمل کے ساتھ ساتھ شامی تعمیر نو اور شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے بھی وسیع تعاون کیا جانا چاہئے۔ مجید تخت روانچی نے اپنی گفتگو میں شامی خودمختاری کے مکمل احترام پر زور دیا اور شامی حکومت کی اجازت کے بغیر اس ملک میں گھس بیٹھنے والی تمام بیرونی فورسز سے فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے تاکید کی کہ امریکی فورسز نے دہشتگردی کے ساتھ نام نہاد مقابلے کے بہانے نہ صرف شام کے ایک حصے پر قبضہ کر رکھا ہے بلکہ وہ جبہۃ النصرہ (تحریر الشام) جیسے بعض دہشتگرد گروہوں کی باقاعدہ مدد کرنے کے ساتھ ساتھ شامی تیل اور قومی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں بھی مصروف ہیں۔

ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق مجید تخت روانچی نے اپنے خطاب میں شام پر ہونے والے صیہونی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے شام کے مقبوضہ علاقوں "گولان ہائیٹس" پر صیہونی قبضے کو غیر قانونی اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو کی جانب سے وہاں کے دورے کو "اس علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے کے غیر قانونی صیہونی اقدام کو جائز قرار دینے کی ایک مذموم کوشش" قرار دیا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ گولان ہائیٹس ہمیشہ سے شام کا حصہ تھیں اور ہمیشہ شام کا حصہ باقی رہیں گی۔ انہوں نے دہشتگردی کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے تک شام کے اندر اس کے ساتھ مسلسل مقابلے پر زور دیا اور کہا کہ اس ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی ہر کوشش کا بھرپور مقابلہ کیا جانا چاہئے۔
خبر کا کوڈ : 900014
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش