0
Thursday 26 Nov 2020 11:12

وزیراعظم کی پہلی مرتبہ چوہدری برادارن کی رہائشگاہ آمد، اختلافات دور ہونے کا امکان

وزیراعظم کی پہلی مرتبہ چوہدری برادارن کی رہائشگاہ آمد، اختلافات دور ہونے کا امکان
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے 2 سال سے زائد عرصے کے بعد گجرات کے چوہدری برادران سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کا مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت کی عیادت کے لیے ان کی رہائشگاہ کا دورہ دونوں اتحادیوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنا سکتا ہے، جو بہت سے معاملات پر کافی عرصے سے تناؤ کا شکار تھے۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ (ق) واحد اتحادی ہیں جن کے لیے وزیراعظم نے ذاتی دورہ کیا۔ گلبرگ میں قائم رہائش گاہ میں ان کی آمد پر مسلم لیگ (ق) کے مونس الٰہی نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ وزیراعظم نے چوہدری شجاعت سے ملاقات میں ان کی خیریت دریافت کی اور جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ اس ملاقات میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی، وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ، اراکین قومی مونس الٰہی، شیخ حسین اور حسین الٰہی کے علاوہ وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار، شہباز گل، شافع حسین اور محمد خان بھٹی بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی سے علیحدہ ملاقات بھی کی جو 30 منٹ تک جاری رہی۔ رپورٹس کے مطابق ملاقات میں پرویز الٰہی نے وزیراعظم کو اپنی پارٹی کے خدشات سے آگاہ کیا، پارٹی ذرائع کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ ملاقات دونوں اتحادیوں کے مابین اختلافات دور کرنے میں مدد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرویز الٰہی نے وزیراعظم سے مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے براہ راست رابطہ رکھنے کا کہا، کیوںکہ ان کے قریبی افراد دونوں اتحادیوں کے درمیان غلط فہمیوں کا سبب بن رہے ہیں۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ چوہدری پرویز الٰہی نے اپنی جماعت کے لیے دوسری وزارت نہیں مانگی، جیسا کہ مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی کے درمیان ہوئے سمجھوتے میں فیصلہ کیا گیا تھا اور پرویز الٰہی اپنی جماعت کی اہم فیصلہ سازی میں شمولیت کے حوالے سے زیادہ فکر مند تھے۔

خیال رہے کہ چوہدری شجاعت گذشتہ ہفتے ہسپتال میں داخل تھے اور چیسٹ انفکیشن کی وجہ سے ان کی صحت بگڑ گئی تھی، اس وقت وزیراعظم نے ان کے اہلِ خانہ کو فون کرکے ان کی خیریت دریافت کی تھی۔ قبل ازیں مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے وزیراعظم کی جانب سے اتحادیوں کے لیے دیئے گئے ظہرانے اور عشایئے میں شرکت سے انکار کر دیا تھا، کیوںکہ وزیراعظم نے چوہدری برادران کو براہ راست مدعو نہیں کیا تھا۔ مسلم لیگ (ق) کی سب سے بڑی شکایت وزیراعظم کی جانب سے اہم قومی معاملات پر آن بورڈ نہیں لینا تھا، اس کے ساتھ مسلم لیگ (ق) کی جانب سے وزیراعظم کے اردگرد "منافقوں اور چاپلوسوں" کی موجودگی کا بھی الزام لگایا جاتا ہے، جو انہیں غلط مشوے دیتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی چوہدری برادران سے ملاقات کا بنیادی مقصد ان کے خدشات دور کرنا تھا، کیوںکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈیم ایم) کی حکومت مخالف مہم کے پیش نظر حکومت ایک اہم اتحادی کو کھونے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
خبر کا کوڈ : 900034
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش