1
Thursday 26 Nov 2020 19:58

عربوں میں بیداری کی لہر اٹھنے والی ہے

عربوں میں بیداری کی لہر اٹھنے والی ہے
تحریر: سید عظیم سبزواری

عرب ممالک اپنی مٹی کیساتھ خیانت کرتے ہوئے اسرائیل پر مہر تصدیق ثبت کرتے جا رہے ہیں۔ عرب حکمران اس کے بدلے میں اپنے اقتدار کی بقاء سمجھ رہے ہیں۔ اب سمجھ جانا چاہیئے کہ امریکی سامراجیت کیوں عرب دنیا میں جمہوریت کے اجراء پر زبانی جمع خرچ تو کرتی آئی ہے لیکن حقیقی جمہوریت کے نفاذ کی کبھی کوشش نہیں کریں گے، حتی کہ لبنان میں رائج فرسودہ جمہوریت جس میں اسرائیل مخالف قوتیں کامیاب ہوتی ہیں، اس کو بھی سبوتاژ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اگر حقیقی جمہوریت رائج ہو جائے تو کوئی ایک بھی ایسی مسلمان یا عرب ریاست نہیں جو اسرائیل کے وجود کو قبول کر لے۔ جتنی بھی ریاستوں نے خطہ میں اسرائیل کو قبول کیا ہے، وہاں جمہور کا اس عمل میں کوئی کردار نہیں رہا۔

ترکی، اردن اور مصر کے حکام نے دہائیوں سے اسرائیل کو قبول کیا ہوا ہے، لیکن وہاں کے عوام نے ان سفارتی تعلقات کو اپنی قوم، کلچر اور ملک میں معمولات پر نہیں آنے دیا، جیسے دو فطری ریاستوں کے بیچ میں ہوتا ہے، حتی کہ اسرائیل کیساتھ بڑھ چڑھ کر کسی بھی تعلق کو ان ممالک میں منفی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی کچھ آج کل امارات اور بحرین میں ہو رہا، جنہوں نے کچھ ماہ قبل ہی صہیونی ریاست کو کھل کر قبول کیا ہے۔ ان دو ممالک میں پے در پے پولیس اور افواج میں استعفے آرہے ہیں اور فلسطینی و دیگر عرب عوام ان کے اس عمل کو غداری کہہ رہی ہے۔ حقیقی جمہوریت میں جمہور کبھی بھی اس قبضہ اور تسلط کو باقاعدگی نہیں بخشے گی۔ ان عرب ریاستوں کے حکمران گو کہ اس معاہدہ کو ایران مخالف بنا کر فطری بننے کے چکر میں ہیں۔

لیکن دراصل جہاں یہ بہت پردے چاق کرتا ہے، وہاں یہ بھی جان لینا چاہیئے کہ یہ اپنی حکمرانی کو طول دینے کی کوشش ہے، بیداری اسلامی کی جو لہر 2010ء میں عرب ممالک میں اُٹھی تھی، وہ عارضی طور پر تھمی ہے، لیکن رکی نہیں۔ ٹرمپ نے جب سعودی بادشاہ کو کہا تھا کہ تم ہمارے بغیر 2 ہفتے بھی قائم نہیں رہ سکتے تو اس نے درست کہا تھا۔ عرب حکمرانوں کو پتہ تھا کہ اگر اب بھی ہم نے اسرائیل کو قبول نہ کیا تو یہ دیگر شاہی خاندان کے شہزادوں سے ہمارا تختہ الٹوا دیں گے۔ لیکن اپنے آپ کو بچانے کے چکر میں انہوں نے ظالم کا کھل کر ساتھ دے کر اپنے قبیح چہرے کو آشکار کیا ہے۔ اب اس سلسلہ میں عرب عوام میں جو ابال بن رہا ہے، وہ اس تھمی ہوئی بیداری کی دوسری لہر کے طور پر اٹھے گا۔ آئندہ چند سالوں میں جو ان کے تخت و تاج کو بہا لے جائیگا، لیکن صہیونی ریاست کے اختتام کی زمینہ سازی کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 900144
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش