0
Sunday 29 Nov 2020 09:19

بھارت کی کسان تحریک، سنگھو اور ٹیکری بارڈر پر کسانوں کے مظاہرے

بھارت کی کسان تحریک، سنگھو اور ٹیکری بارڈر پر کسانوں کے مظاہرے
اسلام ٹائمز۔ بھارتی حکومت کے تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک آج چوتھے دن میں داخل ہوگئی۔ تمام مظاہرین سنگھو اور ٹیکری بارڈر پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ تحریک کا آگے کیا رخ ہوگا، اس کے لئے آج 11 بجے کسان لیڈروں کی ایک میٹنگ کرنے جا رہے ہیں۔ اترپردیش کی سابق وزیراعلٰی مایاوتی مظاہرہ کر رہے کسانوں کی حمایت میں اتر گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے زراعت سے متعلق حال ہی میں نافذ کئے گئے تینوں قوانین کے تئیں مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر کے کسان مشتعل ہیں اور تحریک چلا رہے ہیں۔ اس کے مدنظر کسانوں کی عام رائے کے بغیر تیار کئے گئے قوانین پر حکومت اگر از سرنو غور کر لے تو بہتر ہوگا۔ کسانوں نے ہفتہ کی رات بھی سنگھو بارڈر پر ہی گزاری۔ یہاں کسانوں کی بڑی تعداد کی موجودگی کے سبب حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کی گئی ہے۔

درایں اثنا بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ کی تجویز پر کسانوں نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ امت شاہ نے کہا تھا کہ اگر کسان براڑی کے میدان میں چلے جاتے ہیں تو حکومت ان سے فوری طور پر بات چیت کرے گی لیکن کسانوں کے لیڈران ان کی اس تجویز سے ناراض ہیں۔ بھارتیہ کسان یونین کے راکیش ٹکیت نے کہا کہ یہ غنڈہ گردی والی بات ہے کہ احتجاج ختم کرو گے تو بات ہوگی۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ آخر کسان یہاں کیوں آئے ہیں، کیونکہ انہیں مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر کسانوں سے بات کرے اور ہمارے مسائل حل کرے۔ ادھر سوراج مہم کے لیڈر یوگیندر یادو نے کہا ہے کہ اگر حکومت کے پاس کسانوں سے بات چیت کرنے کے لئے وقت نہیں ہے تو بھارت بھر کے کسان دہلی اور اس کی سرحد پر اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔
خبر کا کوڈ : 900601
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش