0
Wednesday 2 Dec 2020 21:11

پاکستان اسرائیل کو قبول کر لے تو ہمارا ردعمل کیا ہوگا؟

پاکستان اسرائیل کو قبول کر لے تو ہمارا ردعمل کیا ہوگا؟
تحریر : سید عظیم سبزواری

پاکستان میں اسرائیل سے تعلقات کو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کو بڑے بڑے صحافی اور ضمیر فروش میڈیا پرسن عوام میں لا رہے ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ سیاسی سطح پر عوام کو کنفیوز کیا جا رہا ہے، جہاں شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم عمران خان ایک جگہ تو قائداعظم کے موقف کی بات کرتے ہیں کہ ہم اسرائیل کو قبول نہیں کریں گے تو دوسرے سانس میں یہ بھی کہہ جاتے ہیں کہ دو ریاستی نظریہ جس میں فلسطینیوں کو حقوق ملیں تو ہم قبول کرسکتے ہیں۔ ان تضادات میں پاکستانی عوام کو اپنی جگہ نہیں دکھائی دے رہی۔ پاکستان میں ایک غالب نظریہ ہمیشہ اسرائیل کو قبول نہ کرنے کا رہا ہے۔ لیکن اس نظریئے کو قدامت پرست اور مذہبی طبقہ کے ’’مسلمان یہود تعصب‘‘ کا ضمیمہ بنا کر با اثر افراد رد کر دیتے ہیں۔ وہ اس کو پاکستان کے مفادات کیخلاف قرار دے کر یہ خام خیال پیش کرتے ہیں کہ اب تو عرب قبول کر رہے ہیں تو ہمیں بھی کر لینا چاہیئے اور ہمیں اس سے اقتصادی اور سیاسی مفادات حاصل ہوں گے۔ دوسری جانب مذہبی اور قدامت پرست طبقہ پرانی رٹی رٹائی باتوں اور قرآن میں یہود و نصاریٰ سے دوستی نہ کرنے کی آیات کے علاؤہ کوئی خاطر خواہ دلیل نہیں لے کر آتا۔

فلسطین کے بارے میں ملتِ اسلامیہ کا نقطہ نگاہ اور بھائی چارہ ہو یا ایک سرزمین پر بیرونی قبضہ والا اصول، پاکستانیوں کے مختلف طبقات اسرائیل کو لے کر کشمکش اور بے راہ روی کا شکار ہیں۔ یہ سب اس لئے کہ پاکستانی اپنا کردار ایک نظریاتی مسلمان ریاست کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، جس نے ملت اسلامیہ کو یکجا رکھ کر اس کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے یا پھر جنرل مشرف کے وقت میں لگایا گیا قوم پرست نعرہ "سب سے پہلے پاکستان۔" علامہ اقبال اور قائداعظم کے سایہ میں پل کر بڑی ہونیوالی پاکستانیوں کی دو تین نسلیں جو مسجد قرطبہ میں شاعر مشرق کی اذان ہو یا ترکی میں سقوط پذیر ہونیوالی خلافت عثمانیہ، یا پھر امام خمینیؒ کے انقلاب سے مانوس ہونیوالی ہو یا پھر سقوط ڈھاکہ کو ہندو بنیے کی سازش سمجھ کر خود کو مظلوم ٹھہرانے والی ہو، یہ اپنے اہداف کا تعین تب تک نہیں کرسکتی جب تک خود شناسی سے خود کو وضع کرکے اپنا کردار نہیں اپنا لیتی۔ آج کی دنیا میں جہاں شناخت کی سیاست زور پکڑ چکی ہے، وہاں یہ کام آسان بھی نہیں۔

اس سارے پس منظر میں ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں کہ اگر پاکستان اسرائیل کو قبول کرلے تو پاکستان سے کیا ردعمل آئے گا؟ کیونکہ ایسی کوئی قبولیت مشرف کی آگرہ کانفرنس کے طرز پر ہوگی، جس میں اس کو قبول کیا جانا کیسے پاکستان کے مفاد اور خطہ میں ہندوستان اور اسرائیل گٹھ جوڑ کی شکست اور عربوں کی ناراضگی سے بچنا قرار دیا جائے گا اور عرب امارات کی طرح فلسطینیوں کی بہتر مدد کرنے کیلئے اس عمل کو لگی لپٹی کیا جائے گا۔ اس تناظر میں جہاں ایک طبقہ اس کو پاکستان کی جیت اور اس کے مفادات کی پیش قدمی قرار دے گا، وہاں ایک اسلامی اور قدامت پرست طبقہ نکل کر چند ریلیاں اور احتجاجات کرے گا۔ حکومتی مشینری کی کوشش ہوگی کہ ان احتجاجات کو پُرتشدد بنایا جائے، تاکہ بات کا رخ اس طبقہ کے "وحشیانہ پن" کی جانب موڑ کر اس موضوع کو دبایا جائے۔ گو کہ یہ چند احتجاجات اور گرما گرم بیانات سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔

جس طرح پاکستانی قوم نے سقوط ڈھاکہ کو قبول کرکے تاویلات گھڑ لیں، اس کا بھی یہی نتیجہ نکلے گا۔ گو کہ چند طبقات ضرور مسلسل اس نئے تعلق کیخلاف برسر پیکار رہیں گے، لیکن یہ قلیل تعداد میں ہونگے۔ مگر اس قبیح عمل کیخلاف برسر پیکار نہ ہونے کا نقصان یہ ہوگا کہ سری نگر کی سڑک پر 16 سالہ نوجوان جو ہمارا جھنڈا فخر سے 8 لاکھ بندوقوں کے سامنے تان کر کھڑا ہوتا ہے، وہ گھر میں سر چھپا کر بیٹھ جائیگا۔ دوسرے لفظوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب کشمیر سے دستبردار ہونا ہے۔ اگر ہم فلسطین کے معاملے میں چشم پوشی کرتے ہوئے اسرائیل کا وجود تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو مایوس کریں گے۔ اس سے پھر دنیا میں قبضے کو جواز مل جائے گا۔ یوں کوئی بھی ملک اٹھے گا اور کسی بھی ملک کی سرزمین پر قبضہ کر لے گا۔ ممکن ہے کہ افغانستان کل کو اٹھے اور ہمارے پختون علاقوں پر قبضہ جمالے اور جواز یہ پیش کرے کہ اسرائیل نے بھی تو ایسا ہی کیا تھا، اسے تو آپ نے تسلیم کر لیا، اب ہمیں بھی تسلیم کریں۔ بلوچستان کے ساتھ بھی ایسی ہی واردات پیش آسکتی ہے۔ اس لئے پاکستان کی بقاء اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے میں ہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 901272
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش