0
Friday 15 Jan 2021 22:27

مقبوضہ کشمیر میں ایام فاطمیہ (س) کے سلسلے میں مجالس عزاء کا اہتمام

مقبوضہ کشمیر میں ایام فاطمیہ (س) کے سلسلے میں مجالس عزاء کا اہتمام
اسلام ٹائمز۔ ایام فاطمیہ (س) کے سلسلے میں دنیا بھر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر کے گوشہ وکنار میں عزاداری کے مجالسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں سرینگر کے مضافاتی علاقہ گنڈ حسی بٹ میں انجمن صدائے حسین کے اہتمام سے ہفتہ مجالس کا اہتمام کیا گیا۔ سوگواری کی ابتدائی مجالسوں میں وادی کشمیر کے نامور علمائے کرام و دانشور حضرات کے علاوہ قارئین قرآں، نعت خوانوں اور نوحہ خوانوں نے سیدۃ نساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا (ص) کو شاندار انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔ ہفتہ مجالس کا آغاز 11 جنوری سے ہوا جو 17 جنوری تک جاری رہے گا۔ گزشتہ مجالس میں علمائے کرام و دانشور حضرات کے علاوہ زن و مرد پر مشتمل عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے وعظ و نصحیت اور سیرت طیبہ حضرت فاطمہ الزہرا (س) سماعت کرنے کے علاوہ نوحہ خوانی، مرثیہ خوانی اور سینہ زنی کی اور سیدہ فاطمہ زہرا (س) کو شاندار انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔ ابتدائی مجلس میں وادی کے نامور عالم دین مولانا آغا سید یوسف الموسوی نے ’’حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا بحثیت مدافعہ اسلام‘‘ کے موضوع پر سیر بحث روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا (س) صرف خواتین جہاں کے لئے نہیں بلکہ عالم بشریت کے لئے رول ماڈل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے نقش قدم پر چل کر عالم اسلام کو درپیش تمام چلینجز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

عزاداری کی دوسری مجلس میں ممتاز دانشور و عالم دین مولانا بشیر احمد بٹ نے ’’انقلاب فاطمی سے انقلاب اسلامی ایران تک‘‘ کے موضوع پر مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران انقلاب فاطمی اور انقلاب کربلا کا ادامہ ہے سیرت حضرت زہرا (س) پر عمل پیرا ہوکر ہی اس کو مستقبل میں بھی ادامہ دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایام فاطمیہ صرف سینہ زنی اور نوحہ خوانی تک ہی محدود نہیں رہنی چاہیئے بلکہ ایام فاطمیہ ایک تحریک ہے اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ)، قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای، سید حسن نصر اللہ، آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزکی، آیت اللہ شہید باقر نمر النمر، آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم، شہید مصطفٰی چمران، شہید عباس بابائی، شہید قاسم سلیمانی، شہید حججی اور شہید ابومہدی المہندس کی طرح عزم و استقلال اور ہمت و بہادری کے ساتھ میدان عمل میں آنا چاہیئے اور اس کے ذریعے ہم وہ کمال حاصل کرسکتے ہیں، جس کا اہلبیت ہم سے تقاضا کررہے ہیں۔ تیسری مجلس میں آغا سید ارشد موسوی نے فاطمہ زہرا (س) آزمائش الٰہی کے عنوان پر مفصل روشنی ڈالی۔

ایام فاطمیہ کی چھوتی مجلس میں وادی کے معروف عالم دین مولانا میر مصطفٰی فاطمی نے سیرت و شخصیت حضرت فاطمہ زہرا (س) کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ مولانا میر مصطفٰی نے کہا کہ فدک ایک تحریک تھی اس کو محض زمین کے ایک ٹکڑے کی نگاہ سے دیکھنا جہل اور نادانی کی انتہا ہے۔ اس موقع پر مقامی صحافی مجتبیٰ شجاعی نے بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چودہ سوسال گزر جانے کے باوجود بھی ابھی تک امت مسلمہ نے حضرت فاطمہ زہرا(س) کی معرفت حاصل نہیں کی بلکہ ملا نما جاہل افراد آج بھی سیدہ زہرا (س) کی توہین کررہے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کی بے غیرتی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نبی رحمت (ص) کے بیٹی کا مرقد اطہر ایک ایسے دور میں کھلے آسمان تلے مظلومیت کے مناظر پیش کررہے ہیں جس دور میں آل سعود تعمیر و ترقی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور رسول اسلام (ص) سے عاشقی کا دعویٰ کررہے ہیں۔ ایام فاطمیہ کی مجالس میں انجمن صدائے حسین کے چیئرمین مظفر حسین ریشی اور دانشور محمد اکبر میر نے بھی تبادلہ خیال کیا۔
خبر کا کوڈ : 910378
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش