0
Sunday 24 Jan 2021 23:29

اسرائیل کیساتھ دوستی بنانیوالے ممالک اور سعودی عرب واحد مقصد کیلئے کوشاں ہیں، فیصل بن فرحان

اسرائیل کیساتھ دوستی بنانیوالے ممالک اور سعودی عرب واحد مقصد کیلئے کوشاں ہیں، فیصل بن فرحان
اسلام ٹائمز۔ سعودی شاہی رژیم نے بالآخر؛ غاصب و بچوں کی قاتل صیہونی رژیم کے ساتھ دوستی معاہدوں پر دستخط کرنے والے ممالک کے ساتھ اپنی گہری ہمآہنگی سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ عرب ٹی وی چینل العربیہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے والے ممالک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں طرف سے اٹھایا گیا ایک آزادنہ فیصلہ ہے جبکہ ہمیں امید ہے کہ امن عمل پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم جس مقصد کے لئے کوشش کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ فلسطین کے نام سے ایک ملک وجود میں آ جائے جس کا دارالحکومت مشرقی قدس ہو۔

فیصل بن فرحان نے اپنی گفتگو میں واضح انداز میں کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جو کچھ اس حوالے سے انجام پایا ہے (یعنی اسرائیل کے ساتھ بعض عرب ممالک کے دوستانہ تعلقات)؛ فلسطینیوں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کی جانب اسرائیل کے لئے محرک ثابت ہو گا تاکہ اس طریقے سے مسئلۂ فلسطین کے آخری اور عادلانہ حل تک پہنچا جا سکے۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جن ممالک نے اسرائیل کے ساتھ دوستی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں وہ بھی اسی مقصد کا حصول چاہتے ہیں جس کے لئے ہم کوشاں ہیں۔ سعودی شاہی رژیم کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب و اسرائیل کے درمیان دوستی معاہدے پر دستخط کے ممکنہ وقت کے بارے کہا کہ یہ مسئلہ عرب امن منصوبے (Arabic Peace Initiative) کے مطابق امن و امان اور مشرقی قدس پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر منحصر ہے کیونکہ اسرائیل کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات کا مکمل دارومدار عرب امن منصوبے پر ہے۔

واضح رہے کہ 15 ستمبر 2020ء کے روز امریکہ و سعودی عرب کی شہ پر ممتاز عرب ملک متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس بہانے کے تحت غاصب و بچوں کی قاتل صیہونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کر لئے گئے تھے کہ بعدازاں اسرائیل کی جانب سے مزید فلسطینی سرزمین پر قبضہ نہیں جمایا جائے گا تاہم متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین، سوڈان اور مراکش کی جانب سے بھی اسرائیل کے ساتھ دوستی معاہدے (Abraham Peace Agreement) پر دستخط کر دیئے جانے کے باوجود امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مزید 30 فیصد فلسطینی اراضی کے اسرائیل کے ساتھ الحاق پر مبنی "صدی کی ڈیل" نامی مذموم سازش پر زور و شور سے عملدرآمد جاری ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے والے ممالک کی جانب سے نہ صرف اس مذموم کوشش کی مخالفت نہیں کی گئی بلکہ وہ خود اس صیہونی کمپین میں بڑھ چڑھ کر شریک ہیں۔
خبر کا کوڈ : 912152
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش