0
Thursday 28 Jan 2021 09:19

چیئرمین نیب کی پیشی کے معاملے پر سینیٹ دباؤ کا شکار ہے، سلیم مانڈی والا

چیئرمین نیب کی پیشی کے معاملے پر سینیٹ دباؤ کا شکار ہے، سلیم مانڈی والا
اسلام ٹائمز۔ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ ایوان میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے سے پیش کردہ قراردادوں کے معاملے پر چیئرمین اور دیگر اراکین دباؤ کا شکار ہیں۔ نجی ٹی وی کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ چیئرمین نیب کے خلاف تحریک استحقاق اور قرارداد کے معاملے پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ہمارے کچھ سینیٹرز بھی دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دباؤ کی وجہ سے پارلیمنٹ میں نیب کے خلاف معاملے کو نہیں اٹھایا جارہا اور کرپشن پر ہاتھ ڈالنے کے معاملے پر بات نہیں کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجروں کو بلا کر پلی بارگین کر رہے ہیں اس پر چیئرمین نیب نے کوئی بات نہیں کی۔
 
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نیب کو نجی ٹرانزیکشنز میں گھسنے کی کسی نے اجازت نہیں دی، نیب نجی بینک اکاؤنٹس میں بھی گھس جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری اور نیب کی لڑائی کوئی ذاتی نہیں۔ واضح رہے کہ 14 جنوری کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلیم مانڈوی والا نے اعلان کیا تھا کہ نیب سے متعلق تمام حقائق ایوان بالا میں لائیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ نیب کے اندر کیا ہو رہا ہے، انجینیئر منگی دوبارہ سے انجینئرنگ میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب راولپنڈی کا ٹولا فوج کا نام لے کر ملک کے اہم ادارے کی توہین کر رہا ہے اور سینیٹ آف پاکستان کو پہلی دفعہ نیب سے خطرہ ہے۔ انہوں نے نیب پر کاروباری افراد کو پلی بارگین کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیب اس ملک میں کیا تباہی مچا رہا ہے، تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ کاروباری افراد کو آرمی چیف نے جی ایچ کیو بلایا ہو۔

خیال رہے کہ سلیم مانڈوی والا نے چیئرمین نیب، ڈی جی نیب اور تحقیقاتی افسر کے خلاف تحریک جمع کرا رکھی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پی پی پی کی فارن فنڈنگ سے متعلق دستاویزات بھی جمع کرادی۔ الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرانے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے فارن فنڈنگ سے متعلق جواب الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ سے متعلق ہم نے اپنا جواب جمع کرادیا ہے، ہمارا جواب واضح ہے، ہم نے بینکوں سے بھی سرٹیفکٹس لیے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے فارن فنڈنگ نہیں لی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف اب فارن فنڈنگ سے متعلق بحث نہیں ہونی چاہیے۔ خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا فارن فنڈنگ سے متعلق کیس زیر سماعت ہے جہاں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے خلاف بھی درخواست دائر کر رکھی ہے۔
خبر کا کوڈ : 912801
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش