0
Thursday 28 Jan 2021 10:33

اپوزیشن کی سینیٹ انتخابات پر قومی اسبملی میں بل پیش کرنے کے فیصلے پر تنقید

اپوزیشن کی سینیٹ انتخابات پر قومی اسبملی میں بل پیش کرنے کے فیصلے پر تنقید
اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے آئینی ترمیم کا بل پیش کرنے کے فیصلے پر تحفطات اور خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اسے تاخیری حربہ قرار دیا۔ تاہم دونوں جماعتوں نے کہا کہ جب پاکستان تحریک انصاف حکومت بل کو باضابطہ طور پر پارلیمان میں پیش کر دے گی تو وہ اس معاملے پر اپنی رائے دیں گی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ان کی پارٹیاں اس وقت پارلیمان کی کارروائی میں حصہ لے رہی ہیں اس لیے ان کے اراکین قانون سازی کے عمل میں حصہ لیں گے اور پارلیمانی کمیٹی اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اس معاملے پر بات چیت کریں گے۔  

وفاقی کابینہ کی جانب سے سینیٹ انتخابات اوپن ووٹ کے ذریعے کروانے کے لیے آئینی ترمیم کا بل پارلیمان میں پیش کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباس نے کہا کہ آئینی ترمیم کوئی ٹکڑا نہیں، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ انتخابی نظام میں کچھ خامیاں ہیں تو اپ کو پورا پیکج لانا پڑے گا۔ رہنما مسلم لیگ (ن) نے مزید کہا کہ اس طرح کی چیزیں جلد بازی میں نہیں کی جاتیں۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت انتخابی اصلاحات کے حوالے سے مخلص ہے تو اسے پیکج کی شکل میں لانا چاہیے اور اپوزیشن بھی اپنی تجاویز پیش کرے گی۔
خبر کا کوڈ : 912811
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش